صنعتکاراپنی اپنی صنعتوں میں جدید انرجی مینجمنٹ سسٹم کو متعارف کرائیں ، صدر فیصل آباد چیمبر

پیر مئی 22:44

صنعتکاراپنی اپنی صنعتوں میں جدید انرجی مینجمنٹ سسٹم کو متعارف کرائیں ..
فیصل آباد۔07مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) بجلی کی پیداوار میں اضافے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے محتاط انرجی مینجمنٹ ناگزیر ہے۔ یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شبیر حسین چاولہ نے یونائیٹڈ نیشنز ،انڈسٹریل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (یونیڈو) کے زیر اہتمام 2 روزہ انرجی مینجمنٹ سسٹم بارے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 دہائیوں میں توانائی بحران کی وجہ سے پاکستان کی شرح نمو میں 2 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ انہوںنے کہا کہ اگر بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کی کوششوں کے نتیجہ میں اس سال بارہ ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی سسٹم میں داخل ہوئی مگر اس کے باوجود 6 ہزار میگاواٹ کی کمی باعث تشویش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں انرجی مینجمنٹ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تا کہ ملک میں پیدا ہونے والی بجلی سے بھرپورفائدہ اٹھایا جا سکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صنعتکاروں کو چاہیئے کہ وہ اپنی اپنی صنعتوں میں جدید انرجی مینجمنٹ سسٹم کو متعارف کرائیں تا کہ بجلی کی بچت سے ان کی پیداواری لاگت میں بھی کمی آ سکے۔ اس طرح ہمیں بجلی کے فرسودہ آلات اور ٹیکنالوجی کو بھی خیرباد کہنا ہوگا اور اس سلسلہ میں انرجی اڈٹ کو رواج دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات میں مسلسل کمی کے بعد اس سال واضح تیزی نظر آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی فراہمی میں بہتری کے بعد اب اس کے سستے نرخوں پر فراہمی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تا کہ برآمدی سامان کی پیداواری لاگت کو ہر ممکن حد تک کم کیا جا سکے۔ شبیر حسین چاولہ نے بجلی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے، پاور سیکٹر میں اصلا حات متعارف کرانے، توانائی کی الگ وزارت کے قیام اور کوئلے کی نقل و حمل کے بارے میں نئی پالیسی تیار کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔