اراکین قومی اسمبلی کی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت ،واقعہ کی تحقیقات کرکے اصل محرکات کو منظر عام پر لانے کامطالبہ

یہ حملہ وزیر داخلہ پر نہیں بلکہ ریاست پر حملہ ہے‘ ارکان اسمبلی کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے سپیکر تمام صوبوں کو خط لکھیں ،ہمیں ہر قسم کی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ملک‘ نظام اور عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا،قومی اسمبلی میں اظہار خیال سپیکر سردار ایاز صادق کا الیکشن 2018ء کی انتخابی مہم کے دوران تمام ارکان اسمبلی کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے چاروں صوبوں کے آئی جیز کو خط لکھنے کا عندیہ

پیر مئی 22:44

اراکین قومی اسمبلی کی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی شدید ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) اراکین قومی اسمبلی نے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات کرکے اصل محرکات کو منظر عام پر لانے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ حملہ وزیر داخلہ پر نہیں بلکہ ریاست پر حملہ ہے‘ ارکان اسمبلی کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے سپیکر تمام صوبوں کو خط لکھیں ،ہمیں ہر قسم کی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ملک‘ نظام اور عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔

پیر کو قومی اسمبلی اجلاس کے آغاز پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے کہنے پر وزیر مملکت مذہبی امور پیر امین الحسنات شاہ نے وزیر داخلہ احسن اقبال کی صحت یابی کیلئے دعا جبکہ بلوچستان میں کوئلے کی کان میں جاں بحق ہونے والے مزدوروں‘ آواران میں قتل ہونے والے مزدوروں ‘ ہزارہ کمیونٹی کے دہشت گردی کے شکار افراد ‘ کشمیر اور فلسطین میں شہید ہونے والے مسلمانوں کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کرائی ۔

(جاری ہے)

بعد ازاں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ہر قسم کی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ملک‘ نظام اور عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ہمیں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب شہید ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت کو ختم کیا گیا تو یہ صورتحال اس وقت سے درپیش ہے۔

آج پھر ہم اس مقام پر کھڑے ہیں۔ ہمیں اب مل کر بلا تفریق ہوکر سوچنا ہوگا کہ کس طرح ہمیں ملک‘ نظام اور عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ارکان سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے حالانکہ انہیں خطرات لاحق ہیں۔وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے یک زبان ہو کر مذمت کرنا حوصلہ افزا ہے‘ گالی کی سیاست گولی تک جاتی ہے‘ اس طرح کی صورتحال اور آمرانہ رویوں کے خلاف ہمیں متحد ہونا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی سیاسی قیادت کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اتفاق اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر داخلہ پر حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ عدم برداشت کی صورتحال اور ایسا رویہ جو دوسرے کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہے‘ ہم اس طرز عمل کو مسترد کرتے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر اس غلطی کو دور کیا جسے بڑھا چڑھا کر باہر پیش کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کے حوالے سے واقعہ پر سیاست کسی نے بھی نہیں کی اور ہونی بھی نہیں چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی صورتحال اور آمرانہ رویوں کے خلاف ہمیں متحد ہونا ہوگا۔ اعجاز جاکھرانی نے وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی احسن اقبال کو جلد صحت یابی عطا فرمائے۔ مارنے والے سے بچانے والا بہت بڑا ہے۔

اللہ نے خاص کرم کیا ہے۔ حملہ آور کے پیچھے کون ہے اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن میاں عبدالمنان نے وزیر داخلہ پر حملے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہئیں۔ ہم سب کو سیاسی وابستگیوں سے بالاترہوکر اس حوالے سے سوچنا ہوگا۔ سپیکر ایوان کی کمیٹی بنا کر تحقیقات کرائیں۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی اپنی جماعت کی طرف سے احسن اقبال پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ معاشرے کا بڑا المیہ یہ ہے کہ برداشت ختم ہوگئی ہے۔

رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور خان نے بھی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کو کسی مدرسے یا مذہب سے نہیں جوڑنا چاہیے۔ ہم الیکشن کی طرف جارہے ہیں‘ ان حالات میں ایسے واقعات کا مرتکب ہونا لمحہ فکریہ ہے، سیاسی اکابرین سے واپس لی گئی سیکیورٹی انہیں دوبارہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزیر داخلہ پر حملہ نہیں ریاست پر حملہ ہے۔ سپیکر تمام ارکان اسمبلی کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لئے صوبوں کو خط لکھیں۔

اس پر سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ تمام ارکان کو تحفظ فراہم کرنا سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں تمام آئی جیز کو خط لکھیں گے۔ رکن قومی اسمبلی شیخ صلاح الدین نے احسن اقبال پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے وزیر داخلہ کی جان بچائی ہے‘ ہم دعاگو ہیں کہ وہ جلد از جلد صحت یاب ہو کر ایوان میں واپس آئیں۔ ایسی کارروائیاں کرنے والے فوری طور پر گرفتار ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسا ماحول بنایا جائے کہ خاص افراد کے ساتھ ساتھ عام آدمی کو بھی تحفظ حاصل ہو۔ شیر اکبر خان نے وزیر داخلہ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک امن و امان کے مسئلے کی وجوہات تلاش نہیں کی جائیں گی مسائل رہیں گے۔ ہمیں بیروزگاری‘ غربت اور سودی نظام کے خاتمے کے لئے قانون سازی کرنا ہوگی۔ ایسے واقعات کو مذہب سے نہ جوڑا جائے۔

تحقیقات کے بعد حقائق منظر عام پر لائے جائیں۔ عبدالقہار ودان نے بھی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے 22 کروڑ عوام کے وزیر داخلہ پر حملے کا فوری نوٹس لیں۔ سپیکر ایوان کی کمیٹی بھی بنا کر تحقیقات کرائیں۔ سید عیسیٰ نوری نے کہا کہ حملہ آور کا مقصد وزیر داخلہ کی زندگی کا خاتمہ تھا۔ اس حملے کی تحقیقات کرکے اصل محرکات تک پہنچنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج تک ایسے واقعات کے ملزم پکڑے نہیں جاسکے۔ بلوچستان میں بھی سیاستدانوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ اہم شخصیات کی سیکیورٹی کا خاتمہ انہیں قربانی کا بکرا بنانے کے مترادف ہے۔ اسلحہ لائسنس پر پابندی کی وجہ سے بھی ہمیں اپنے تحفظ میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اسلحہ لائسنسوں پر پابندی ختم کی جائے۔