کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد کیمپس میں کانووکیشن کی تقریب ،578طلباء و طالبات کو ڈگریاں اور میڈلز دیئے گئے

پیر مئی 22:24

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد کیمپس میں کانووکیشن کی تقریب منعقد ہوا جس میں ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر ستارہ امتیاز، مہمان خصوصی تھے ۔مختلف کیمپسز کے ڈائریکٹرز، بورڈ آف فیکلٹی،ڈینز آف فیکلٹی اور پروفیسر صاحبان نے شرکت کی ۔ اس موقع پر فارغ التحصیل طلباء و طالبات کے والدین ،رشتے داروں اور علاقہ بھر کی نمایاں شخصیات بھی موجود تھیں۔

کامسیٹس انسٹی ٹیویٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کی گراں قدر خدمات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے حال ہی میںحکومت پاکستان نے اس ادارے کو یونیورسٹی کادرجہ دیا۔ جس کی بدولت یہ کامسیٹس یونیورسٹی کاپہلاکانووکیشن منعقد ہوا۔ 578طلباء و طالبات کو ڈگریاں اور میڈلز دیئے گئے تقریب کی خصوصی بات 6طلباء و طالبات کو پی ایچ ڈیز کی ڈگریز جن میں ڈیمپارٹمنٹ آف کمپیوٹر سائنس میں فیصل رحمان،ڈیپارٹمنٹ آف الیکٹریکل انجنئرنگ میں ساجد عقیل، ڈیپارٹمنٹ آف اینوائرنمنٹل سائنسز میں سید حسین شاہ ،ڈیپارٹمنٹ آف فارمیسی میں روزینہ کوثر،عزیز اللہ،سیدہ عابدہ عجازکوپی ایچ ڈیز ڈگری سے نوازا گیا۔

(جاری ہے)

تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹرراحیل قمر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ تعلیمی سلسلے کی کامیاب تکمیل پر کانووکیشن میں ڈگری حاصل کرناآپ کے لئے یقینا خوشی وطمانیت کا باعث ہوگا ۔ آپ نے دورانِ حصولِ تعلیم علمی دیانت اور عمل ِ پیہم کواپناتے ہوئے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا جس کے اعتراف میں آج آپ کو اسناد اور تمغہ ہائے حسنِ کارکردگی سے نوازا جارہا ہے۔

مزید کہا کہ آپ کی روشن آنکھیں اورجگمگاتے چہرے اس بات کا اظہارہیں کہ آپ نے پورے عزم کے ساتھ عملی زندگی کی تعمیر کا آغاز کردیا ہے ۔اورمیں پورے اعتماد کے ساتھ آپ کے والدین کو گواہ بناتے ہوئے یہ کہہ سکتاہوں کہ اپنی آئندہ زندگی میں آپ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قابل ِفخر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے اورملکی اوربین الاقوامی سطح پراپنے پیار ے ملک پاکستان کی توقیر میں اضافے کا باعث بنیں گے ۔

مجھے اُمید ہے کہ مادرِ علمی میں آپ کا قیام فائدہ مند اور خوشگوار رہا ہوگا۔ میری دعا ہے کہ کامیابی آپ کا مقدر۔ لگن ،دیانت اور اقبال کی خودی آپ کی شناخت ہو۔ آج کے جدید دنیا میں تمام اقوام سائنس و ٹیکنالوجی بڑھانے کے کوشاں ہے کیونکہ یہ ٹھوس اقتصادی ترقی کے لئے ناگزیر ہے ۔ حکومت سائنس و ٹیکنالوجی کو مزید فروغ دینے کے لئے مزید اقدامات کر رہی ہے ۔

جامعات کسی قوم کی ترقی اور تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ ان کا بنیادی مقصد قوم کے نوجوانوں کو مستقبل کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کا ہنر سکھاناہوتاہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کی تربیت ہی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ ماہر سائنسدان، مخلص سیاستدان، ہنر مند پیشہ ور ، قابل اساتذہ اور سلجھے ہوئے سماجی کارکن معاشرے میں نظر آتے ہیں۔

ڈائریکٹر کامسیٹس ایبٹ آباد کیمپس پروفیسر ڈاکٹر ارشد پرویز نے کیمپس کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی ۔اس موقع اُنہوں نے کہاکہ ہمارے بزرگوں نے ایک آزاد جمہوری اور اسلامی ریاست کا جو خواب دیکھا تھا وہ شرمندہٴ تعبیر تو ہوا ۔تاہم ایک مکمل آزاد ،حقیقی جمہوری اور فلاحی مملکت کا جامع تصور ہنوز تشنہ ٴ عمل ہے ۔ملکی ، علاقائی اور بین الاقوامی مزاحمتوں اور سازشوں کے باوجود مخلص افراد و طبقات نے سائنس ، صنعت ،زراعت ، مواصلاتی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔

لیکن ہمارے سامنے معاشرتی عدم مساوات ، ناخواندگی، عدم منصوبہ بندی، بے روزگاری ، بے عملی ، غیر سنجیدگی اور ذاتی مفادات کی جنگ کے بت کھڑے ہیں۔ انہیں رکاوٹوں کے خاتمے کے لئے تعلیمی ادارے باالخصوص کامسیٹس نوجوانوں کی ہمہ پہلو تربیت کرکے انہیں عملی زندگی میں مؤثر کردار کی ادائیگی کے لئے قوم کے سپرد کررہا ہے۔ آج کی یہ تقریب بھی اسی مثبت اور تعمیری عمل ِ مسلسل کی ایک کڑی ہے۔

میں از حد مسرت و اطمینان محسوس کررہاہوں کہ آج ہم قابل اور تربیت یافتہ جوانوں کی ایک نئی اورپرعزم کھیپ قومی دھارے میں شامل کرنے جارہے ہیں۔ جو ملک کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع اور پیشہ ورانہ شعبوں کی ترقی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ ہمارے یہ طلبہ تعلیم وتربیت کے کٹھن اور بامقصد مراحل سے گزر کر تکمیل کے مراحل تک پہنچے ہیں۔

جنہیں اُن کی ذات کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے یہ فکر دی گئی ہے کہ وہ بقولِ اقبال دانہ بھی ہیں، کھیتی بھی ہیں، باراں بھی اور حاصل بھی ہیں جو یہ اعتماد رکھتے ہیں کہ وہ ناخدابھی ہیں۔ بحر بھی ، کشتی بھی اور ساحل بھی ہیں ۔جو شعلہ بن کر خاشاک ِغیر اللہ کو پھونکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ جو جوہر آئینہ ٴ ایام اور زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہیں۔

تقریب میں مہمانوں نے طلبہ میں اسناداور میڈلز تقسیم کیے۔طلبہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جو کچھ انہوں نے ادارے سے سیکھا ہے اسے وہ اپنی عملی زندگی کاحصہ بنا کر ملک پاکستان کے لئے کام کریں گے۔اس موقع پر ڈائریکٹر نے Ushers نے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دی ہیں اور شب و روز محنت کرنے والے ادارے کے معاون اہلکار بلخصوص مالی ، ڈرائیورز ، نائب قاصد اور دیگر عملے کا بھی شکریہ ادا کیا۔ڈائریکٹر صاحب نے اپنی تقریر کے آخر میں اس تقریب کے عنوان ’’اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ۔ہم ایک ہیں۔ پراختتام کیا۔