صوبہ سندھ پر کرپشن کا راج ہے ، جو لوگ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں وہ درحقیقت ہمیں کام کرنے سے روکنا چاہتے ہیں،میئر کراچی وسیم اختر

18 کا جو بجٹ پیش کیا اسے ضائع کرنے کے بجائے اپنے فنڈز سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر لگا رہے ہیں تھر میں ، لاڑکانہ میں، میرپور خاص، شکار پور یا پھر بدین میں اس رقم کا آڈٹ ہونا چاہئے اور نیب کو اس کیس کو دیکھنا چاہئے،میڈیا سے گفتگو

پیر مئی 22:28

صوبہ سندھ پر کرپشن کا راج ہے ، جو لوگ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں وہ درحقیقت ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ پر کرپشن کا راج ہے ، صرف جلسے کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، جو لوگ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں وہ درحقیقت ہمیں کام کرنے سے روکنا چاہتے ہیں، ہم نے 2017-18 کا جو بجٹ پیش کیا اسے ضائع کرنے کے بجائے اپنے فنڈز سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر لگا رہے ہیں، مگر گزشتہ سالوں کے دوران سندھ حکومت کی طرف سے ترقیاتی کاموں کے لئے ریلیز کئے گئے ڈیڑھ ہزار ارب روپے کا حساب کون دے گا، ہمیں بتایا جائے کہ وہ پیسہ کہاں لگایاگیا ، تھر میں ، لاڑکانہ میں، میرپور خاص، شکار پور یا پھر بدین میں اس رقم کا آڈٹ ہونا چاہئے اور نیب کو اس کیس کو دیکھنا چاہئے، ہم ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ عوام الناس کو آگاہی بھی فراہم کر رہے ہیں، سب کو مل کر شہر کے حق کے لئے آواز بلند کرنا ہوگی، ہمارے پاس تجربہ کار ٹیم ہے، انشاء اللہ اسی طرح کام کرتے رہیں گے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کی سہ پہر قیوم آباد تا اقراء یونیورسٹی مین کیمپس سروس روڈ کے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن، سینئر ڈپٹی کنوینئر ایم کیو ایم عامر خان، سابق ممبر صوبائی اسمبلی حافظ اسامہ قادری، چیئرمین ڈی ایم سی ایسٹ معید انور، چیئرمین یوسی2- ملک شاہنواز اور یوسی5- ساجد دبیراور دیگر منتخب نمائندے اور افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی نے کہا کہ تیسری دنیا میں سیاست کا یہی چلن ہے کہ ایک دوسرے پر الزام لگائے جائیں، اس سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے، ہمارے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کا یہی کردار رہا ہے، مجھے کراچی کے شہریوں نے میئر بنایا ہے، وزیراعلیٰ سندھ تعلیم یافتہ ہیں اور کسی حد تک تعاون کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ساڑھے 5 ہزار رننگ فٹ اس سڑک پر 17 کروڑ 45 لاکھ روپے لاگت کا تخمینہ ہے جس میں سے ساڑھے 4 ہزار رننگ اسکوائر فٹ سڑک مکمل کرلی ہے اور بقیہ ایک ہزار رننگ فٹ کے لئے بجٹ میں 4 سے 5 کروڑ روپے رکھے ہیں، اس سڑک کی تعمیر سے اقراء یونیورسٹی کے ہزاروں طلبا و طالبات کو سہولت ملے گی اور ایکسپریس وے ، ڈیفنس ویو اور کراچی ایڈمن سوسائٹی سے متصل آبادیوں کے مکینوں کو درپیش آمدورفت کے مسائل حل ہوں گے، انہوں نے کہا کہ اے ڈی پی فنڈز کی پہلی ریلیز چھ ماہ کی تاخیر سے دی گئی جس کی وجہ سے تعمیراتی کام میں تاخیر ہوئی تاہم اگست 2018 تک اس سڑک کو مکمل کرلیں گے، اس سڑک پر آگے درمیان میں ایک تھانہ بنا ہوا ہے جسے ہٹانے کے لئے آئی جی سندھ سے بات ہوئی ہے، یہ سڑک پوری کراچی کا بڑا مسئلہ تھا جس کی وجہ سے یہاں چوریاں اور ڈاکیتیاں بہت بڑھ گئی تھیںجسے کے ایم سی نے حل کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس شہر کی اونر شپ ہے اور ہم پورے خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ شہر کے تمام علاقوں میں ترقیاتی کام کرا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کراچی کے پانچ انڈرپاسز جن میں ناظم آباد ، لیاقت آباد اور غریب آباد انڈرپاس شامل ہیں انہیں ٹھیک کر رہے ہیں تاکہ شہریوں کو برسات کے موسم میں سہولت ملے، سینئر ڈپٹی کنویئنر ایم کیو ایم عامر خان نے کہا کہ میئر کراچی انتہائی جانفشانی سے کام کر رہے ہیں اور ایم کیو ایم کا مکمل اعتماد اور سپورٹ انہیں حاصل ہے، پیپلز پارٹی والے دس سال تک کہاں سوتے رہے جو اب الیکشن سے دو ماہ پہلے جاگے ہیں، ایم کیو ایم کا اپنا ایک کلچر ہے اور ہم سب کو مل کر کام کرنا ہے، ایم کیو ایم تمام زبانیں بولنے والوں کی نمائندہ جماعت ہے، اس موقع پر سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ اسمبلی کے فلور پر سندھ حکومت کی کرپشن کے خلاف بھرپور آواز اٹھائوں گا ، میئر کراچی کے خلاف کرپشن کی ناکام مہم چلانے کی جو کوشش کی جا رہی ہے وہ حسد اور بغض کا نتیجہ ہے، میئر کراچی شہر میں کام کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر بلدیات بتائیں انہوں نے کراچی میں کیا کام کیا ہے۔