عمیر ثناء فائونڈیشن کے تحت تھیلے سیمیا کے عالمی دن کے حوالے سے مزارِ قائدپر چراغ روشن کرنے کی تقریب

تقریب میں ڈاکٹر سیف الرحمن ،انصار برنی ،ڈاکٹر ثاقب انصاری تھیلے سیمیا کے بچے،والدین،ڈاکٹرز اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے شرکت کی

پیر مئی 22:28

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) عمیر ثناء فائونڈیشن کے تحت تھیلے سیمیا سے آگاہی کے لیے یکم مئی سے 8مئی تک چلائی جانے والی ہفت روزہ مہم کے سلسلے میںتھیلے سیمیا کے عالمی دن کے موقع پر تھیلے سیمیا کے بچے،ان کے والدین،ڈاکٹرز اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے مزارِ قائد پر چراغ روشن کیے اور ملک سے تھیلے سیمیا کے خاتمے کا عزم کیا۔

اس موقع پر میونسپل کمشنر بلدیہ عظمیٰ کراچی ڈاکٹر سیف الرحمن،معروف سماجی کارکن انصار برنی،عمیر ثناء فائونڈیشن کے سیکریٹری ڈاکٹر ثاقب انصاری،عبید ہاشمی اور دیگر بھی موجود تھے۔چراغ روشن کرنے کا مقصد تھیلے سیمیا کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔واضح رہے کہ تھیلے سیمیا ایک موروثی بیماری ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے،اس بیماری میں خون بننے کا عمل رک جاتا ہے نتیجتاً مریض کو ہر ماہ خون لگوانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

(جاری ہے)

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال چھ ہزار بچے تھیلے سیمیا کا مرض لے کر پیدا ہو رہے ہیں۔عمیر ثناء فاؤنڈیشن گزشتہ 13سال سے تھیلے سیمیا کے خاتمے کی جدوجہد کر رہی ہے۔اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تھیلے سیمیا کا ملک میں تیزی سے پھیلنا تشویشناک ہے ۔اس مرض کو بڑھنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ شادی سے قبل تھیلے سیمیا کا ٹیسٹ کرائیں۔

انہوں نے کہا کہ عمیر ثناء فائونڈیشن تیرہ سال سے تھیلے سیمیا کے مرض سے آگاہی اور اس کے خاتمے کی کوشش کر رہی ہے ،ہم نے معاشرے میں بڑے پیمانے تھیلے سیمیا آگاہی مہم چلا کر اس بات کی کوشش کی ہے کہ آنے والی نئی نسل کو اس مرض سے محفوظ بنایا جائے۔ہم پاکستان کو تھیلے سیمیا سے پاک کرنے کی جدوجہد کر کر رہے ہیں اور معاشرے کے تمام طبقات اس مرض کے خاتمے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کو تھیلے سیمیا سے محفوظ بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔

انہو ں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں تھیلے سیمیا کے انسداد کے حوالے سے بل منظور ہوا مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ چار سال گزرنے کے باوجود اس بل پر عمل درآمد نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ تھیلے سیمیا کے مریض بچوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں ایک کروڑ افراد تھیلے سیمیا مائنر اورتقریباً ایک لاکھ افراد تھیلے سیمیا میجر کا شکار ہیں جب کہ پاکستان میں سالانہ پانچ ہزار بچے تھیلے سیمیا کا مرض لے کر پیدا ہو رہے ہیں، تھیلے سیمیا کے حوالے سے ہمیں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے،تاکہ شادی سے قبل لوگ تھیلے سیمیا کا ٹیسٹ کرائیں،صرف ایک ٹیسٹ سے تھیلے سیمیا کے مرض کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔