فاٹا انضمام کے بغیر کوئی آپشن نہیں، غیر فطری لکیریں قوموں کو تقسیم نہیں کر سکتیں، اسفندیار ولی خان

ہمارے سینوں پر انگریز کی کھینچی گئی لکیر مزید برداشت نہیں کی جا سکتی، باجوڑ سے ژوب تک سڑک تعمیرکر کے تمام قبائلی علاقوں کو ترقی کے دھارے میںلایا جائے، صوبے کی شناخت کیلئے قربانیاں دیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے،آنے والا دور انتہائی نازک ہے ، کارکن صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں،تقریب سے خطاب

پیر 7 مئی 2018 23:11

فاٹا انضمام کے بغیر کوئی آپشن نہیں، غیر فطری لکیریں قوموں کو تقسیم ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ غیر فطری لکیریں قوموں کو تقسیم نہیں کر سکتیں فاٹا کو آئندہ الیکشن سے قبل صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے اور آئینی ترمیم کے ذریعے انہیں صوبائی کابینہ میں بھی حصہ دیا جائے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں جشن خیبر پختونخوا کے سلسلے میں منعقدہ ایک پُروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی، مرکزی ترجمان زاہد خان ، مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ، بشیر احمد مٹہ ، افراسیاب خٹک ،صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان اور دیگر رہنمابھی اس موقع پر موجود تھے ، اسفندیار ولی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اے این پی نے خطے میں امن کے قیام اور صوبے کی شناخت کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کے نتیجے میں ہم اپنی آنے والی نسلوں کے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ، انہوں نے کہا کہ نواز شریف ایک بار ولی خان بابا سے وعدہ کر کے مکر گئیء تو انہیں جدہ بھاگنا پڑا تھا اور جب انہوں نے فاٹا پر قوم سے کیا گیا وعدہ پورا نہ کیا تو انہیں پختونوں کی آہوں نے آ لیا ،انہوں نے کہا کہ باجوڑ سے ژوب تک سڑک تعمیر کی جائے اور تمام قبائلی علاقوں کو ترقی کے دھارے میں لانے کیلئے اس سے منسلک کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ ہمارے سینوں پر انگریز کی کھینچی گئی لکیر مزید برداشت نہیں کی جا سکتی آئندہ انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کو حکم دیا جائے کہ قبائلی علاقوں میں اسمبلی کی نشستوں کا تعین کیا جائے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اے این پی بھرپور احتجاج کا حق رکھتی ہے ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ عوام کی محرومیاں دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، جمہوری اور آئینی راستے بند ہونگے تو عوام غیر جمہوری اور غیر آئینی راہ اختیار کریں گے ،فاٹا انضمام کے بعد شمالی اور جنوبی پختونخوا کے پختونوں کے اتحاد کیلئیء کوششیں کریں گے اور پختونوں کی ایک وحدت قائم کریں گے،حالیہ صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کے بعض مطالبات تسلیم کرنے میں کوئی قباحت نہیں،لیکن مرکزی حکومت اس میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے،انہوں نے کہا کہ آنے والا دور انتہائی نازک ہے اور عوام صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے الیکشن کی تیاریاں کریں ، انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے اس کی تنظیمیں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جس کی تنظیمیں مضبوط ہیں ، اسفندیار خان نے کہا کہ تمام کارکن باہمی اختلافات ختم کر کے آپس میں اتحاد و اتفاق لکا مظاہرہ کریں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پارٹی کا آئین موجود ہے اور ہر کارکن اس پر حرف بہ حرف عمل کرنے کا پابند ہے ، انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی آئین کی خلاف ورزی کرنے والے پر ہر گز اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔قبل ازیں اس موقع پر ٹاؤن فور سے پی ٹی آئی لیبر ونگ کے چیئرمین صلاح الدین مومند کی قیادت میں حاجی نیاز محمد ، فیض اللہ اور دیگر کئی اہم سرکردہ شخصیات نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ توپیاں پہنائیں اور باچا خان کے قافلے میں شمولیت پر مبارکباد پیش کی ۔جبکہ باضابطہ شمولیت ایک بڑے جلسہ عام میں کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔