ہزارہ ڈویژن کے بیشتر علاقہ جات پولن الرجی کی لپیٹ میں آ گئے

پیر مئی 23:13

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) ہزارہ ڈویژن کے بیشتر علاقہ جات ان دنوں پولن الرجی کی لپیٹ میں ہیں، پولن لرجی کی اصل وجہ یہاں پر لگائے جانے والے سفیدے کے درخت ہیں جو لکڑی کی مانگ کو پورا کرتے ہیں۔ یہ بات پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن کی سروے رپورٹ میں بیان کی گئی۔

(جاری ہے)

ہزارہ میں موسم بہار کے شروع ہوتے ہی سفیدہ کے درخت سے نکلنے والی روئی پورے علاقہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ روئی کی برف باری ہو رہی ہے۔

سروے رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سفیدہ کے درخت سے نکلنے والی روئی پولن الرجی کا سبب بنتی ہے جس سے گلے اور سینے کے امراض پھیلتے ہیں جو انسانی جسم کیلئے مضر صحت ہوتے ہیں مگر اس سے بچائو کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے نجات مل سکتی ہے۔ یہ سروے پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن سوسائٹی نے ینگ ہیلپ موومنٹ صوبہ خیبر پختونخوا کے اشتراک سے ایک ماہ میں مکمل کیاہے۔

متعلقہ عنوان :