نعیم بخاری کے ساتھ لندن میں کیا ہوا،لندن پولیس بھی حقائق سامنے لے آئی

تحریک انصاف کے رہنما نعیم بخاری پر کسی نے حملہ نہیں کیا،نعیم بخاری پر کسی حملے کا ریکارڈ موجود نہیں،ترجمان برطانوی پولیس

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس پیر مئی 21:19

نعیم بخاری کے ساتھ لندن میں کیا ہوا،لندن پولیس بھی حقائق سامنے لے آئی
لندن(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار- 07مئی 2018ء ) :ونعیم بخاری کے ساتھ لندن میں کیا ہوا کیا نہیں،لندن پولیس بھی حقیقت سامنے لے آئی۔لندن پولیس کے ترجمان کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما نعیم بخاری پر کسی نے حملہ نہیں کیا،نعیم بخاری پر کسی حملے کا ریکارڈ موجود نہیں۔تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما نعیم بخاری کے لندن میں زخمی ہونے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

ایک جانب تحریک انصاف کے رہنما نعیم بخاری مصر ہیں کہ حادثہ گرنے سے پیش آیا نہ کہ کسی اور وجہ سے ۔دو روز قبل اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اسٹیشن کے اندر گر کر زخمی ہوا تھا ۔انکا کہنا تھا کہ چکر آنے پر منہ کے بل گرا جس کے باعث شدید چوٹیں آئی تھیں۔چند روز میں ہسپتال سے ڈسچارج ہو جاوں گا۔جس وقت یہ حادثہ ہوا تھا اس وقت میری بیٹی اور میری اہلیہ میرے ساتھ تھیں۔

(جاری ہے)

اس لیے بروقت طبی امداد کے لیے ہسپتال پہنچا دیا گیا۔وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور تیزی سے روبہ صحت ہیں۔انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ میرے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والا پراپیگنڈا جھوٹ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔دوسر جانب لندن پولیس بھی اس حوالے سے حقیقت سامنے لے آئی ۔لندن پولیس کی جانب سے دئیے گئے بیان نے نعیم بخاری کے موقف کی تائید کر دی۔

لندن پولیس کے ترجمان کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما نعیم بخاری پر کسی نے حملہ نہیں کیا،نعیم بخاری پر کسی حملے کا ریکارڈ موجود نہیں۔یاد رہے کچھ روز قبل ٹی آئی رہنما نعیم بخاری کو لندن کے زیر زمین ریلوے اسٹیشن پر گرنے سے چوٹ آئی جس کی وجہ سے انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ لندن اسپتال میں زیر علاج ہونے پر ن لیگی کارکنان نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نعیم بخاری نے بیگم کلثوم نواز نے لندن میں زیر علاج ہونے پر تنقید کی تھی اور اب وہ خود لندن کے اسپتال میں زیر علاج ہیں۔اس دوران یہ پراپیگنڈا بھی کیا گیا کہ نعیم بخاری لندن میں گرنے سے زخمی نہیں ہوئے بلکہ ان پر حملہ کیا گیا ہے۔