افغانستان ،چین،ایران،پا کستان،روس اور ترکی قدرتی طورپر ایک دوسرے کے اتحادی ہیں، سردار ایاز صادق

دہشتگردی اور انتہا پسندی کے نا سور کے باعث خطے کا مستقبل خطرے میں ہے ،مساجد ،مندر ،چرچ ،سکو ل ،کا م کر نے کے مقامات اور گھر دہشتگردوں کے نشانے پر ہیں،بحیثیت اراکین پا رلیمنٹ اس پر خامو ش نہیں رہ سکتے ،آپسی اختلا فات ختم کرانے ،اتفاق رائے پیدا کرانے کیلئے تیار ہیں، سپیکر قومی اسمبلی

پیر مئی 23:27

افغانستان ،چین،ایران،پا کستان،روس اور ترکی قدرتی طورپر ایک دوسرے ..
اسلا م آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) سپیکر قومی اسمبلی سر دار ایا ز صادق نے کہا ہے کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے نا سور کی وجہ سے ہما رے خطے کا مستقبل خطرے میں ہے اور ہما ری مساجد ،مندر ،چرچ ،سکو ل ،کا م کر نے کے مقامات اور گھر دہشتگردوں کے نشانے پر ہیں ۔بحیثیت اراکین پا رلیمنٹ ہم اس پر خامو ش نہیں رہ سکتے ،آپس کے اختلا فات کو ختم کرانے اور اتفاق رائے پیدا کرانے کیلئے تیار ہیں ۔

سپیکر قومی اسمبلی نے یہ بات پیر کو افغانستان،،،چین،،،ایران ،،روس ،پا کستان اور ترکی کے نما ئندوں سے گفتگو کر تے ہو ئے کہی جنہو ں نے ان سے پارلیمنٹ ہا ئوس میں ملا قات کی ۔ یہ نما ئندے اسلا م آباد میں گزشتہ سال دسمبر میں ہونیوالی سپیکر ز کا نفرس کے چارٹر اور رولز کو حتمی شکل دینے کے لیے کا م کر رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

سپیکر نے اس تاریخی مو قع کو سراہا جب مذکو رہ چھ ممالک کے پا رلیما نی سر براہان پہلی دفعہ اسلا م آباد میں مل کر بیٹھے اور مشترکہ امن ،خو شحا لی اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے نئی راہیں تلا ش کر نے کے عزم کا اظہار کیا ۔

انہو ں نے کہا کہ امن، مذاکرات اور باہمی تعاون کسی بھی خوشحال معا شرے کی تشکیل کی بنیا دی اکا ئیا ں ہیں جن پر ہما ری آئند ہ نسلو ں کا پا ئیدار ترقی کا دارومدار ہے ۔انہو ں نے کہا کہ ان چھ مما لک کی اقوام نہ صرف جغرافیا ئی اعتبار سے ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہیں بلکہ مشترکہ قدیم تہذیبی ورثے کے امین ہونے کے ساتھ ساتھ زمینی تجا رتی راستوں ،سیا حت اور ثقافت کے بھی علمبردار ہیں ۔

سردار ایا ز صادق نے کہا کہ پا کستان خطے میں امن اور استحکا م کی خواہش رکھتاہے کیو نکہ یہ خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے نا گزیر ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دس سالو ں میں دنیا کا کو ئی بھی کونہ دہشتگردوں کی کا روائیو ں سے محفوظ نہیں رہا اور اس ناسور کی وجہ سے دنیا کے دو لا کھ سے زیادہ افراد جان بحق ہوئے ہیں جن میں سے نصف کاتعلق ہمارے خطے سے ہے ۔

انہو ں نے کہا کہ مشر ق وسطیٰ کے جلتے میدانوں سے کشمیر تک دنیا حق خودارادیت کے بنیا دی حق کے مسائل کو حل کرنے میں نا کا م رہی ہے اور یہی مسائل انتہا پسندی کی بنیا دی وجہ ہیں۔سپیکر نے دوستی اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے سیا سی اور پا رلیمانی قیا دت کے ما بین مسلسل رابطوں کی ضرورت پر زور دیا ۔انہو ں نے کہا کہ بحثیت ہمسایہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے اور اچھے ہمسایوں کی طرح ہمیں امن ،باہمی اعتما د و احترام کے ساتھ رہنا ہو گا۔

اس مو قع پرشرکاء نے سپیکر سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے گھنائونا واقعہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو یکجاہوکر دہشتگردی اور انتہاپسندی جیسے ناسور کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے سپیکر کی جانب سے چھ ملکوں پر مشتمل سپیکرز کانفرنس کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے ہم خطے کے مسائل پر نہ صرف قابو پاسکیں گے بلکہ ترقی اور خوشحالی کی بلندیوں کوبھی چھو سکیں گے۔قبل ازیں معزز مہمانوں نے پارلیمنٹ ہائوس کا دورہ کیا اور کچھ دیر کے لیے قومی اسمبلی اجلاس کی کاروائی بھی دیکھی ۔