قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2018-19ء کے بجٹ پر بحث جاری

اراکین نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 20 فیصد اضافے سمیت دیگر تجاویز دیں

پیر مئی 23:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2018-19ء کے بجٹ پر بحث پیر کو بھی جاری رہی۔ اس دوران اراکین نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 20 فیصد اضافے سمیت دیگر تجاویز دیں۔ پیر کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے نواب یوسف تالپور نے کہا کہ ہماری سیاست بوری بند نہیں ہے ہم سیدھی سیاست کرتے ہیں۔

ہم بھی وڈیرہ ازم کے خلاف ہیں۔ ساجدہ بیگم نے کہا کہ بجٹ میں عوام کو سہولیات دینا مقصود ہوتا ہے۔ مفتاح اسماعیل اپنی ذمہ داریوں کی بنیاد پر اہم بجٹ پیش کر سکتے تھے۔ پی آئی اے جیسے ادارے کی بہتری کے لئے فنڈز مختص کرنے بارے کسی بجٹ میں نہیں سوچا گیا۔ پاکستان میں صنعت کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ نئے آبی ذخائر کے لئے اور معدنیات کے لئے پالیسی بنانی چاہیے۔

(جاری ہے)

ملک محمد عزیر خان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ شرح نمو 5.8 ہونا مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی کامیابی ہے۔ پاکستان آج ایشیا میں ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔ سی پیک ایک اہم منصوبہ ہے۔ اس پر حکومت کو مبارکباد دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ماحولیات کے چیلنجوں کا سامنا ہے اس کے لئے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ ماحولیاتی تبدیلی کو بااختیار بنایا جائے۔

الیکٹرک کاروں پر ڈیوٹی میں 50 فیصد کمی سے اس شعبہ میں بہتری آئے گی۔ واٹر پالیسی اہم کامیابی ہے۔ عائشہ سید نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سیاسی ہو کر رہ گیا ہے۔ نیشنل سیکیورٹی کے لئے بجٹ میں کوئی حصہ نہیں رکھا گیا۔ شیر اکبر خان نے کہا کہ بجٹ غیر متوازن ہے۔ ضلع بونیر کے علاقے میں گیس اور بجلی فراہم کی جائے اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے۔