سپریم کورٹ کا وزارت خزانہ کے حکام کو سرکاری ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی کا سرٹیفکیٹ ہر ماہ کی پانچ تاریخ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیر مئی 23:33

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت میںوزارت خزانہ کے حکام کو سرکاری ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی کا سرٹیفکیٹ ہر ماہ کی پانچ تاریخ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ پیر کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے معاملہ پر کیس سماعت کی توچیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پتہ چلاہے کہ سی ڈی اے کے ملازمین کو تنخواہ نہیں ملی،جس پر سی ڈی اے کے وکیل نے جواب دیاکہ سی ڈی اے کے سرکاری ملازمین کو تنخواہ اداکردی گئی ہے،ڈیلی ویجزملازمین کوتنخواہوں کی ادائیگی میں مسئلہ درپیش ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ملازمین کو تنخواہیں بروقت ملنی چاہیے،سی ڈے اے کے وکیل نے اپنے موقف میں کہاکہ میٹروپولیٹن کے ملازمین میئر کے ماتحت ہیںجس پرچیف جسٹس نے جواب دیاکہ آپ کا بیان ریکارڈ کرلیتے ہیں اگر آئندہ ملازمین کو تنخواہوں پر شکایت ہوئی تو چیئرمین سی ڈی اے ذمہ دارہونگے،،عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے سے بیان حلفی طلب کرلیا ،ْوزارت خزانہ کے حکام کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ہمارا کام فنڈز کی فراہمی کرناہے ۔

(جاری ہے)

وزارت خزانہ کے حکام نے جواب دیاکہ اداروں کے مابین خط و کتابت سے ہماراکوئی تعلق نہیں،ہماری عرض ہے کہ سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ملیں۔ بعدازاں عدالت نے ہر ماہ کی پانچ تاریخ کو سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کا سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کرنے کاحکم دیتے ہوئے کیس نمٹادیاہے۔