پیپلز پارٹی کراچی میں منافرت کی سیاست کو فروغ دینا چاہتی ہے، یہ رائو انوار کا کراچی نہیں پرامن کراچی ہے، تحریک انصاف

پیپلز پارٹی کراچی کے شہریوں کو ہاری نہ سمجھے،جلسے کے ذریعے امن کا پیغام دینا چاہتے ہیں کسی کارکن کو کچھ ہوا تووزیراعلی سندھ اور بلاول بھٹو ذمہ دار ہونگے،علی زیدی،ڈاکٹرعارف علوی ،حلیم عادل شیخ اور فردوز شمیم نقوی کی حکم سعید گرائونڈ میں پریس کانفرنس

پیر مئی 23:36

پیپلز پارٹی کراچی میں منافرت کی سیاست کو فروغ دینا چاہتی ہے، یہ رائو ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں منافرت کی سیاست کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ یہ رائو انوار کا کراچی نہیں پرامن کراچی ہے ۔۔پیپلز پارٹی کراچی کے شہریوں کو ہاری نہ سمجھے،جلسے کے ذریعے امن کا پیغام دینا چاہتے ہیں کسی کارکن کو کچھ ہوا تووزیراعلی سندھ اور بلاول بھٹو ذمہ دار ہونگے۔

ان خیالات کا اظہارپاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سینئر نائب صدر رہنما علی زیدی، پی ٹی آئی سندھ کے صدر و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی، حلیم عادل شیخ اور فردوس شمیم نقوی نے حکیم سعید شہید گراو نڈ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔اس موقع پر پیپلز پارٹی منارٹی ونگ کے جنرل سیکرٹری مہر چند نے تحریک انصاف میں شمولیات کا اعلان کیا۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ منافرت پھیلانے کی سیاست دوبارہ شروع کی جارہی ہے ۔

ماضی میں کراچی کے جو حالات خراب ہوئے اب نہیں ہونے چاہیے، ہم کراچی کے مسائل کے حل کے لئے نکلے ہیں ،چار روز سے انتظامات میں لگے ہوئے ہیں، اس جلسے میں عمران خان اہم پیکج کا اعلان کرینگے۔ انھوں نے کہا کہ 12مئی کے جلسے کے لیے پچھلی تاریخوں میں اجازت لی گئی ، اب پیپلز پارٹی یہاں جلسہ کرنا چاہ رہی ہے ، ہم نے یہاں تین چار روز کیمپ لگایا ہوا ہے ، پیپلز پارٹی کے دعوے بے بنیاد ہیں، کرب جوار میں رہنے والوں سے پوچھا جائے اس گراونڈ میں پہلے کون آیاتھا رینجرز سے امن وامان برقرار رکھنے کی درخواست کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ آج راو انوار والا کراچی نہیں ہے۔غنڈہ گردی برداشت نہیں کی جائیگی ۔ہمیں ہاری نہ سمجھا جائے۔ ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کراچی کا جو حال کیا گیا ہے، کوئی نہ کوئی لیڈر شپ ان معاملات کا سدباب کرنے کو موجود ہونی چاہئے۔ مہاجر کارڈ اور سندھی بولنے والوں کا کارڈ کھیل کر منافرت پھیلائی جا رہی ہے۔ جب ہم نے جلسے کا اعلان کردیا تھا ، اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے بیک ڈیٹ درخواست جمع کروا کر اس کو متنازعہ بنایا ہے۔

مجھے پیپلز پارٹی کے ورکرز سے کوئی پریشانی نہیں ہے، ان کی لیڈر شپ انہیں اکسا رہی ہے۔ یہ راو انوار والا کراچی نہیں ہے۔ ہم ہاری نہیں بلکہ کراچی کے شہری ہیں۔ ہم مقابلہ کرنا جانتے ہیں لیکن پر امن رہنا چاہتے ہیں۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے جلسوں سے ہمیں ضروری لگا کہ کراچی کو امن کا پیغام دینا چاہئے۔ جب تک کراچی میں امن نہیں ہوگا، پاکستان خوشحال نہیں ہوسکتا۔

ہم پر امن رہنا چاہتے ہیں۔ ہم آپس میں لڑ کر کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی کارکنان معصوم ہوتے ہیں۔ ہم کسی کی غنڈہ گردی بھی برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما علی زیدی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سے رابطہ کرکے درخواست کی ہے خوامخواہ خوف ہراس نا پھیلایا جائے ہم بارہ مئی کو امن کا پیغام دینگے ۔ ہم ایک پر امن جماعت ہیں اور رہیں گے۔

میں نے سعید غنی کو فون کرکے کہا کہ ہم نے تین دن سے کیمپ لگایا ہوا ہے۔ آپ اچانک بلدیہ میں جلسہ کرتے کرتے یہاں کیسے آگئے۔آپ حکومت رکھتے ہیں، ذرائع اور پولیس آپ کے پاس ہیں۔ تنازعے کی فضا پیدا نہ کریں ، جلسے کی تاریخ آگے بڑھا دیں۔ یہ تماشا پیپلز پارٹی نے خواہ مخواہ ہمارے جلسے کو متنازعہ بنانے کے لیے کیا ہے۔ آپ خیبر پختونخواہ میں جائیے اور جلسہ کیجئے۔

آپ کو کوئی محاذ آرائی دیکھنے کو نہیں ملے گی۔ ہم لال رنگ کے گلابوں کی اور امن کی بات کرنے آئے ہیں۔ اگر آپ تنازعہ چاہیں بھی توہم نہیں چاہتے۔ پی ٹی آئی سندھ کے سینئر نائب صدر حلیم عادل شیخ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوری جماعت ہے جو بھٹو زندہ ہے کا نعرہ لگاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر آج ذوالفقار علی بھٹو یا بے نظیر بھٹو زندہ ہوتے تو شاید یہ نہ ہوتا جو آج ہو رہا ہے۔

یہ غیر جمہوری اور غیر سیاسی طرزِ عمل ہے۔ ہم پر امن سیاسی جماعت ہیں۔ ہم کوئی بندوقیں یا توپیں لے کر نہیں چلتے بلکہ پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری بہت تیاری ہوچکی ہے۔اب اس کے بعد پیپلز پارٹی یہاں آئی ہے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی سازش ہو رہی ہے۔ کراچی میں ہم لوگ امن کا جشن منانا چاہتے ہیں۔

ہم امن کا پیغام لے کر آئے ہیں اور ہم اپنی امن کی بات جاری رکھیں گے۔۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ میں چیف منسٹر سندھ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر پی ٹی آئی کے کسی کارکن کا بال بھی بیکا ہوا تو آپ اور بلاول بھٹو ذمہ دار ہوں گے۔ میں کراچی والوں کو دعوت دیتا ہوں کہ ہمارے جلسے پر امن ہوتے ہیں۔ آپ کو پر امن کراچی کے لیے نکلنا ہوگا اور اپنی طاقت دکھانی ہوگی۔ بارہ مئی کو جلسہ ہے۔ آپ ضرور تشریف لائیے۔