پی ایس 130 سے پیپلزپارٹی کو شکست کا خدشہ بڑھ گیا، 15 سال سے کامیاب ہونے والے ایم پی اے نے عوام کوبھول گیا

پیر مئی 23:39

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) 2018 کی الیکشن میں پی ایس 130 سے پیپلزپارٹی کو شکست کا خدشہ بڑھ گیا، 15 سال سے کامیاب ہونے والے ایم پی اے نے عوام، جیالوں اور کارکنان کو بھول گیا، کئی کارکنان پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹیوں میں شامل ہوگئے ، تفصیلات کے مطابق: پاکستان پیپلز پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور پی ایس 130 سے مسلسل تین مرتبہ منتخب ہونے والے ایم پی اے محمد ساجد جوکھیو کی وجہ سے 2018 کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کو شکست ملنے کا خدشہ بڑھ گیا، عوام اور پارٹی جیالوں سے رابطے نہ کرنے کی وجہ سے سینکڑوں جیالوں نے دوسری پارٹیوں میں شمولیت کردی، کئی کارکنان مختلف پارٹیوں میں شمولیت کرنے کے لئے تیار ، ایم پی اے حکومت سندھ سے ملنے والے فنڈ اپنے من پسند اور چاپلوسی کرنے والوں کو دینے میں مصروف رہا اور اخبار ودیگر الیکٹرانک میڈیا ، سوشل میڈیا تک محدود ہوکر پارٹی قیادت کو جھانسہ دے کر بار بار ٹکٹ حاصل کرنے کا ماہر بن چکا ہے ، پی ایس 130 کے تمام علاقہ حسن پنہورگوٹھ، جوگی موڑ، یوسف عارفانی ، شاہ لطیف، چوکنڈی، عبداللہ گوٹھ، بھینس کالونی، رزاق آباد، اسٹیل ٹائون، پپری ، گلشن حدید، گھگھر پھاٹک، یوسی کوٹیڑو، یوسی چنڈ پاڑو، یوسی کھرکھرو، یوسی درسانو چھنوں کے 100 سے زائد گوٹھ مزار خان جوکھیوگوٹھ، درمحمد گوٹھ، شیدی گوٹھ، پیر سرہندی گوٹھ، جام کنڈو ودیگر تمام گوٹھوں میں منشیات عروج پر رہی ، سیوریج نظام ناکارا، اسکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری، کئی ڈسپینسریوں کا نظام درہم برہم ڈاکٹر غائب ، اسکول زبون حالی کے شکار ہوگئے ، ملیر کے ہزاروں لوگ ہیپاٹائٹس جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوکر بے یارو مددگار مرگئے ، کئی افراد زندگی اور موت کی کشمش میں مبتلا ہوکر بستر مرگ پر لیٹ گئے ہیں، کئی علاقوں میں 15 سالوں سے گیس ، پانی اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ تڑپنے لگے، کئی بار درخواستیں دینے کے باوجود دھیان تک نہ دیا گیا، لوگ احساس کمتری کا شکار ہوگئے ، پیپلز پارٹی کے سابقہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے دور میں 5 ارب روپے کا ملیر پیکج بھی کرپشن کی نظر ہوگیا، 2012 کے دور حکومت میں کراچی کے دیہی علاقوں کو گوٹھ آباد اسکیم تحت لیز کرتے وقت بھی ایم پی اے ساجد جوکھیو، میر عباس تالپور ومن پسند لوگوں نے سرکاری زمینوں پر قبضہ کرکے گوٹھ لیز کروائے ، جبکہ انگریز وں کے دور کے آباد قدیم گوٹھوں کو لیز نہ دے کر نظر انداز کیا گیا اورجن گوٹھوں کو لیز کیا گیاان گوٹھوں کے نام نشان تک نہ تھا، اس وقت پیپلزپارٹی گروپ بندی کے نظر ہوگئی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی ملیر کی سابقہ قیادت ملیر سے پیپلزپارٹی کا صفایا کرنے کی ذمہ دار ہے ، 2013 کی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ایم این اے عبدالحکیم بلوچ 82 ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے جس کے بعد پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کے کہنے پر مسلم لیگ سے استعفیٰ دے کر پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے ضمنی الیکشن میں 82 ہزار اور کچھ ووٹ لے کر کامیابی سے ہمکنار ہوئے ، اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس وقت پ پ ملیر کی قیادت راجہ رزاق بلوچ، ساجد جوکھیو اور میر عباس تالپور سمیت تمام لوگ پارٹی کے حکم نامہ کے باوجود عبدالحکیم بلوچ کی الیکشن مہم کے ساتھ کوئی بھی مدد نہیں کی ، اور 82 ہزار سے ہی کامیاب ہوا، اگر پیپلزپارٹی کی قیادت حکیم بلوچ کی مدد کرتی تو ایک لاکھ سے زائد ووٹ پر جیت ہوسکتی تھی ، مطلب کہ حکیم بلوچ تو اپنی جگہ اپنی ہی پارٹی کی مرکزی قیادت کا بھی کہنا نہیں مانا، عبدالحکیم بلوچ کو مرکزی قیادت کیجانب سے پیپلزپارٹی میں شمولیت کرانے کے باوجود موجودہ پ پ ملیر کی قیادت نظرانداز کررہی ہے ، سوشل میڈیا پر عبدالحکیم بلوچ کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کروائے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے ملیر کی عوام احساس کمتری اور مایوسی کا شکارہوتی جارہی ہے جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی کی مخالف پارٹیاں پاکستان تحریک انصاف،، پاک سرزمین اور جماعت اسلامی میں پی ایس 130 میں ڈیرے ڈال دیئے اگر پیپلزپارٹی کو ملیر میں شکست ملی تو اس کے ذمہ دار راجہ رزاق، ساجد جوکھیو، مرتضیٰ بلوچ اور میر عباس تالپور ہوں گے ، ایک طرف پ پ کی مرکزی قیادت پوری کراچی سے کلین سوئپ کرنے کے لئے شہری علاقوں میں دلچپسی رکھے ہوئے ہیں تو دوسری جانب ملیر ضلع پ پ کا قلعہ سے پ پ کا ہی جنازہ نکلا جارہا ہے ، عوام کی رائے ہے کہ بلاول بھٹو زرداری ، آصف علی زرداری ، سندھ کے صدر نثارکھوڑو کو چاہئے کہ ملیر کی پ پ قیادت کا احتساب کرکے ملیر سے پ پ کا صفایا ہونے سے بچایا جائے ۔