ولی بھائی راجپوتانہ ہسپتال سی34 ملازمین کو برطرف کرنے کے خلاف ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی ہڑتال

ہسپتال کے اندر توڑپھوڑ اور جامشورو روڈ بلاک کر دیا، ہسپتال کی انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے مسئلے کو حل کرنے کی یقین دہانی پر وقتی طور پر احتجاج ختم کر دیا گیا

پیر مئی 23:39

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) ولی بھائی راجپوتانہ ہسپتال سے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سمیت 34 ملازمین کو برطرف کرنے کے خلاف ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف نے ہڑتال کر دی ہسپتال کے اندر توڑپھوڑ کی اور جامشورو روڈ بلاک کر دیا تاہم بعد میں ہسپتال کی انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے مسئلے کو حل کرنے کی یقین دہانی پر وقتی طور پر احتجاج ختم کر دیا گیا۔

ولی بھائی راجپوتانہ ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر شکیل کھتری کی طرف سے پیر کو ایک آفس آرڈر جاری کیا گیا تھا جس کے ذریعے ڈی ایم ایس ڈاکٹر محمد ایوب قائم خانی، پرنسپل اسکول آف نرسنگ مسز مسرت اللہ ڈیتھا، ڈپٹی میٹرن مسز مریم نیلسن، پرچیزنگ آفیسر مس شہناز شیخ، کارپوریٹ اسسٹنٹ محمد جاوید، سب اکائونٹنٹ فیض محمد سمیت 34 ملازمین کو ڈیوٹی سے فارغ کر دیا گیا تھا اور اس میں کہا گیا تھا کہ وہ 8 مئی سے ہسپتال کے ملازم نہیں رہیں گے کیونکہ وہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ گئے ہیں، یہ لیٹر جاری ہونے پر ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور نرسوں نے ہسپتال کا بائیکاٹ کر دیا اور جامشورو روڈ پر لکڑیوں کو آگ لگا کر ٹریفک بند کر دی اور ہسپتال کی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی جس سے مصروف شاہراہ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، مظاہرین میں شامل پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر سرفراز علی راجپوت اور ڈپٹی میڈیکل سرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ایوب نے بتایا کہ 30 سال سے ہسپتال میں خدمات انجام دینے والے خواتین اور مرد اسٹاف کو 60 سال کی عمر کا بہانہ بنا کر فارغ کرنے کا آرڈر جاری کیا گیا ہے تاکہ اپنے من پسند لوگوں کو بھرتی کیا جا سکے، انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر شکیل کھتری جس نے یہ حکم جاری کیا ہے وہ خود 60 سال سے زائد عمر کا ہے ایسے میں اسے بھی ہسپتال میں نہیں ہونا چاہئے، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ایم ایس ہسپتال اپنی سیٹ پر موجود ہیں لیکن لگتا ہے کہ وہ بھی جلد فارغ کر دیئے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ نہ صرف 34 ملازمین کو فارغ کیا گیا ہے بلکہ اس خیراتی ادارے کو ذاتی ملکیت کی طرح چلایا جا رہا ہے، 5 ملازمین سے کہا گیا ہے کہ وہ فتح ٹیکسٹائل ملز میں جا کر کام کریں، انہوں نے کہا کہ جب تک فارغ کئے گئے ملازمین کو بحال نہیں کیا جاتا ہڑتال جاری رہے گی، تاہم وارڈز میں داخل مریضوں اور ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کی دیکھ بھال کی جائے گی، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہسپتال کا 5 سال کا آڈٹ کرایا جائے کیونکہ بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں جاری ہیں۔

(جاری ہے)

درایں اثناء رات کو معلوم ہوا کہ ہڑتالی پیرامیڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹروں سے علاقہ پولیس کے افسران اور ہسپتال کی انتظامیہ نے رابطہ قائم کیا اور یقین دہانی کرائی کہ بات چت کے ذریعے مسئلے کو حل کیا جائے گا جبکہ یہ بھی بتایا گیا کہ فی الحال زبانی طور پر ایڈمنسٹریٹر نے برطرفی کے لیٹر پر عملدرآمد کو معطل کر دیا ہے، سرفراز علی راجپوت نے بتایا آج منگل کو برطرف کئے گئے ملازمین کا ایک اجلاس ہو گا اس میں آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوان :