سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز افضل خان کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کی تقریب منعقد

جسٹس اعجاز افضل کے پاس علم کا ایک خزانہ ہے،جسٹس اعجاز افضل نے کئی اہم فیصلے تحریر کیے جو آنے والے کئی سالوں تک یاد رکھے جائیں گے،مجھے جسٹس اعجاز افضل کے پڑھنے اور سیکھنے کے عمل نے بہت متاثر کیا‘ چیف جسٹس میاں ثاقب

پیر مئی 23:39

سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز افضل خان کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کی تقریب ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس اعجاز افضل خان کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کی تقریب ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نے کہا ہے کہ جسٹس اعجاز افضل کے پاس علم کا ایک خزانہ ہے،جسٹس اعجاز افضل نے کئی اہم فیصلے تحریر کیے جو آنے والے کئی سالوں تک یاد رکھے جائیں گے،مجھے جسٹس اعجاز افضل کے پڑھنے اور سیکھنے کے عمل نے بہت متاثر کیا،جسٹس اعجاز افضل اہم آئینی نوعیت کے سننے والے لارجر بینچز کا بھی حصہ رہے،جسٹس اعجاز افضل نے آئین و قانون کی بالادستی کے لیئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں ان کی زندگی کا ایک چیپٹر ختم ہوگیا ہے اب ایک نیا چیپٹر شروع ہوا ہے جس میں ہم ان کی صحت اور کامیابی کیلئے دعاگو ہیں ، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جن میں سچ کے لیے اٹھ کھڑے ہو نے کا حوصلہ ہو تا ہے اور جسٹس اعجاز افضل بھی ان میں سے ایک ہیں ، جسٹس اعجاز افضل نے مشکل وقتوں میں بھی انصاف کی فرا ہمی کو ترجیح دی ۔

(جاری ہے)

جسٹس اعجاز افضل خان کی ریٹائر منٹ کے مو قع پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کر تے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس اعجاز افضل نہ صرف بینچوں کا حصہ رہے بلکہ وہ ان لارجر بینچو ں کا بھی حصہ تھے جنہو ں نے آئینی نو عیت کے مقدمات کی سماعت کی ،انہو ں نے انصاف کے راستے میں کبھی بھی تیکنیکی رکاٹوں کو حائل نہیں ہونے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کو بہادر لوگو ں نے بنایا اور یہی بہادری پاکستان کو نئی جلا بخشے گی اور جسٹس اعجاز افضل ان بہادر دل والے لوگو ں میں سے ایک ہے،،چیف جسٹس نے کہا کہ ریٹائر منٹ ایک باب کا اختتام اور دوسرے کا آغاز ہے ۔

اس مو قع پر چیف جسٹس نے جسٹس اعجاز افضل کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جس معا شرے میں انصاف نہ ہو وہا ں کچھ بھی قابل احترام نہیں ہوتا، معاشرے میں تبدیلی تعلیم کے ذریعے آتی ہے کیو نکہ تعلیم ہی لوگو ں کو طا قت دیتی ہے، فاضل جج نے سپریم کورٹ میں کام اور اپنی زندگی کے مختلف پہلووں کے بارے میں بھی رو شنی ڈالی اور آخر میں تقریب کے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا اور خاص طور پر جسٹس ریٹائر ڈ سردار رضا اور اپنے سٹاف کا بھی شکریہ ادا کیا ۔

تقریب سے پاکستان بار کونسل ،،سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن اور اٹارنی جنرل نے بھی خطاب کیا اور جسٹس اعجاز افضل کی عدالتی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ۔ پیر کی شام سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز افضل کے اعزاز میں عشا ئیہ دیا گیا جس میں چیف جسٹس میا ں ثاقب نثار اور دیگر ججز نے شرکت کی اور جسٹس اعجاز افضل کی خدمات کو سراہا گیا ۔ اٹارنی جنرل، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کونسل کی جانب سے جسٹس اعجاز افضل کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے کہا کہ جسٹس اعجاز افضل کا تعلق مانسہرہ سے ہے۔ انہوں نے ایبٹ آباد کالج سے 1974سے بی اے کیا‘خیبر کالج سے لاء کی تین سال میں لاء کی تعلیم لی ، 2011 میں پشاور ہائی کورٹ کے جج بنے پھر چیف جسٹس ہائی کورٹ،،پی سی او کا حلف نہیں اٹھایا‘ 2007 کی ایمر جنسی کی مخالفت کی ۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کامران مرتضیٰ واحد اردو میں خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بار اور بینچ کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری کی ضرورت ہے اختلاف رائے کا احترام کرنا چاہئے ، بار کونسل کی قرار دادوں کی اہمیت دینی چاہئے ججز تقرری کے معاملے کو مزید شفاف بنایا جائے، جوڈیشنل کونسل کے فیصلے کے خلا ف ایک اپیل کا حق ہونا چاہئے ۔