خیبرپختونخوا قرار داد کی مخالفت کرنے والے پختونوں کے نام پر سیاست کر رہے ہیں، میاں افتخار حسین

پیر مئی 23:46

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ2010میں خیبر پختونخوا نام کی پیش کی گئی قرار داد کی مخالفت کرنے والے بھی آج پختونوں کے نام پر سیاست کر رہے ہیں، صوبے کی شناخت کا حصول اے این پی کا تاریخی کارنامہ ہے اور یہ صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک تاریخ ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں جشن خیبر پختونخوا کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے کٹھن حالات کا مقابلہ کیا اور صوبے کے حقوق کیلئے جدوجہد کی اس تاریخی کامیابی سے باچا خان اور ولی خان کے ارمانوں کی تکمیل کی گئی ، انہوں نے اس عظیم کاوش میں جدوجہد کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا انہوں نے کہا کہ دوبارہ اقتدار میں آ کر انقلابی اقدمات کریں گے ،، انہوں نے کہا کہ ملک میں جتنی بھی تباہی آئی اس کی ذمہ دار ڈکٹیٹر شپ ہے ،انہوں نے کہا کہ اب امریکہ نے اپنے مفادات کیلئے داعش لانچ کر دی ہے اور اگر اس تباہی کو نہ روکا گیا تو مزید چالیس سال تک پختونوں کا خون بہتا رہے گا،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں دہشت گردوں کے خلاف جہاد کیا جس میں کئی عظیم رہنما اور کارکن شہید ہوئے ، بونیر ، ملاکنڈ ، سوات اور شانگلہ کے عوام نے امن کیلئے بڑی قربانیاں دیں ، تاہم باچا خان کے فلسفے کو ہاتھ سے نہ چھوڑا ، انہوں نے کہا کہ آج صورتحال ایک بار پھر خراب ہو رہی ہے اور کالعدم تنظیمیں خود کو رجسٹرڈ کر کے پارلیمنٹ تک رسائی چاہتی ہیں تاکہ ملک پر قبضہ کیا جا سکے جبکہ اس کا ٹریلر این اے 4کے ضمنی الیکشن میں بھی چل چکا ہے ،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے پہلے بھی ہمیشہ دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور مستقبل میں بھی اس ناسور کے خلاف ڈٹی رہے گی، میاں افتخار حسین نے وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ دہشت گردی کبھی ختم نہیں ہوئی صرف اس کی شکل تبدیل ہو چکی ہے ،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں اپنی پالیسیاں سپر پاورز کی بجائے عوام کے مفاد میں بنائیں اور گڈ و بیڈ کی تمیز ختم کر کے مشترکہ طور پر دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کریں۔