70سالوں سے سٹیٹس کو چل رہا ہے، گزشتہ پانچ سالوں سے بھی یہ سلسلہ جاری ہے،فاروق ستار

آئینی ترامیم کے ذریعے ہم نئے انتظامی یونٹس کا قیام عمل میں لاکر ہم سوشو اکنامک ڈویلپمنٹ پا سکتے ہیں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے مطالبہ کی ایم کیو ایم بھرپور تائید کرتی ہے،بہاولپور کو چاہیئے تو بے شک صوبہ بنا لیا جائے،ہزارہ بھی ا لگ صوبہ کا متمنی ہے سدرن پنجاب کو آج بھی اپر پنجاب سے وہی شکایات ہیں جو مغربی پاکستان کو مشرقی پاکستان سے تھیں، فاٹا کو صوبہ بنانے کا بل ہم نے پیش کیا ہوا ہے، فاٹا میں ریفرنڈم کرانے کا حکومتی اعلان مثبت ہے، ہم نے محرومیوں کو مٹانا ہے، وفاق کو یہ سب سوچنا ہو گا جنوبی سندھ صوبے کی آواز کو ہم نے روکا ہوا ہے ہم کب تک اس کو روک سکیں گے، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اپنے مفادات کے لئے متحد ہو چکی ہیں،قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال

پیر مئی 23:46

70سالوں سے سٹیٹس کو چل رہا ہے، گزشتہ پانچ سالوں سے بھی یہ سلسلہ جاری ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار نے پیر کے روز قومی اسمبلی میں بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 70سالوں سے سٹیٹس کو چل رہا ہے اور گزشتہ پانچ سالوں سے بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ ہم ہر سال شیڈول بجٹ دیتے ہیں کاش وزیر خزانہ کو اس کوہی دیکھ لیتے ہم نے اپنے بجٹ میں ایک قومی ایجنڈا تشکیل دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم کے ذریعے ہم نئے انتظامی یونٹس کا قیام عمل میں لاکر ہم سوشو اکنامک ڈویلپمنٹ پا سکتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے مطالبہ کی ایم کیو ایم بھرپور تائید کرتی ہے۔ بہاولپور کو چاہیئے تو بے شک صوبہ بنا لیا جائے۔ ہزارہ بھی ا لگ صوبہ کا متمنی ہے۔ سدرن پنجاب کو آج بھی اپر پنجاب سے وہی شکایات ہیں جو مغربی پاکستان کو مشرقی پاکستان سے تھیں۔

(جاری ہے)

فاٹا کو صوبہ بنانے کا بل ہم نے پیش کیا ہوا ہے۔ فاٹا میں ریفرنڈم کرانے کا حکومتی اعلان مثبت ہے۔ ہم نے محرومیوں کو مٹانا ہے۔ وفاق کو یہ سب سوچنا ہو گا۔ جنوبی سندھ صوبے کی آواز کو ہم نے روکا ہوا ہے ہم کب تک اس کو روک سکیں گے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اپنے مفادات کے لئے متحد ہو چکی ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی رورل سندھ کی مصنوعی برتری کے سبب ازل سے شہری (اربن) سندھ پر مسلط ہوئی ہے۔

سندھ کی شہری آبادی کو ہمیشہ کم دکھایا گیا ہے۔ حالیہ مردم شماری میں بھی اربن سندھ کی کم از کم 1کروڑ نفوس کو نفی کر کے دکھایا گیا ۔ سندھ کے شہری علاقوں کا مطالبہ اس اسمبلی کی آخری تقریر میں شامل کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں ۔ آج مفتا ح اسماعیل کو کراچی ڈومیسائل پر وعدے کے باوجود سندھ سے سینٹ کا ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ میں یہ ثابت کر رہا ہوں کہ نہ صرف سندھ پنجاب میں بھی سندھ ڈومیسائل کو تھرڈ گریڈ دیتے آئے ہیں ۔

متروکہ وقف املاک میں بھی مہاجروں کے حقوق پر ڈاکے ڈالے گئے۔ یہ ایم کیو ایم کا وعدہ ہے کہ متروکہ املاک جو ہندوؤں کے جانے کے بعد مہاجروں کے نام آنی تھی وہ انصاف کے مطابق تقسیم کی جائیں گی۔ آئین میں موجود بنیادی امتیاز ختم ہونا چاہیے۔ آئندہ اسمبلی سے فیڈرل فنانس کمیشن ایوارڈ کی امید کرتا ہوں۔ آخری ایوارڈ شوکت عزیز جب مشرف دور میں وزیر خزانہ تھے تو انہوں نے دیا تھا جو کہ ایک اچھا ایوارڈ تھا۔

پسماندہ علاقوں کو ترقی دینے کے لئے مضبوط یونٹوں کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ آرٹیکل107میں ایک ترمیم وقت کی ضرورت ہے جس کے تحت نئے انتظامی یونٹس کا قیام مقصود ہو۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ملک کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ نہرو نے سب سے پہلے ریفارمز کیں۔ اس آئیڈیالوجی کے کچھ ماننے والے آج یہاں بھی بیٹھے ہیں لینڈ ریفارمز کے معاملے بلدیاتی اداروں کو منتقل ہونے جا رہے ہیں۔

گزشتہ10سالوں سے ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے ۔ ایک دوسرے کی کرپشن اور برائیاں چھپاتے رہیں گے تو پانامہ بھی آئے گا اور اقامہ بھی۔ کوئی قانون سازی گزشتہ دس سالوں میں نہیں کی گئی۔ دنیا میں سندھ واحد علاقہ ہے جہاں دیہی اور شہری آبادی کا تناسب ایک ساتھ بڑھ ر ہا ہے۔ بھٹو شہید اور بی بی شہید کے ماننے والوں میں سے کوئی تو شاید جواب دے۔

صحت اور تعلیم کو ترجیح ہی نہیں۔ مشترکہ مفادات کونسل میں ان منصوبوں پر5فیصد تو یقین حاصل کرنا چاہیئے۔ سرکل ایکٹ کی لعنت سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے چاہے جتنا فنڈ لینا ہے صوبوں کو دینا چاہیئے۔ ٹیکس چوروں اور ڈیفالٹر کو حالیہ ایمنسٹی دی جا رہی ہے۔ ایمنسٹی دینی تھی تو امپورٹڈ مشنری کی ڈیوٹی پر دیں تاکہ انڈسٹری اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہیں کم از کم 20فیصد بڑھنی چاہیئے۔ ۔ سی پیک کو ایکقومی منصوبہ بنائیں ۔ سرکلر ریلوے کو اس کا حصہ بنایا جائے۔ چائنہ کے ساتھ جو فری ٹریڈ معاہدہ ہو رہاہے اس میں بھی ایک سکم ہے۔ ہمیں سستے میں خود کو نہیں بیچنا چاہیے۔ یہ بجٹ صرف الیکشن سٹنٹ کے طور پر لیا گیا ہے۔ موبائل کے 100روپے کے لوڈ پر 25روپے ڈائریکٹ ٹیکس اور پھر صارف سے سیلز ٹیکس کی مد میں مزید19فیصد ٹیکس عوام پر اضافی بوجھ نہیں تو اور کیا ہے۔ جو ساڑھے چار سو ارب سالانہ عوام سے حکومت کا ٹے گی ۔۔