حالیہ بجٹ عوام کے لئے کچھ سود مند ثابت نہیں ہوا،درخواست ہے وزیر خزانہ مفلوج افراد کے لئے اس بجٹ میں ضرور کوئی بزنس پلان دیں،ساجدہ بیگم

پیر مئی 23:46

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) رکن قومی اسمبلی ساجدہ بیگم نے پیر کے روز قومی اسمبلی میں بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حالیہ بجٹ عوام کے لئے کچھ سود مند ثابت نہیں ہوا۔ وزیر خزانہ کی ذمہ داری صرف خزانے کو بچانے کی ضرور ہے لیکن اس کے ساتھ یہ عوام پر لگانا بھی ہوتے ہیں،انڈسٹری تباہ ہو چکی ہے۔ بنگلہ دیش سے بھی سبق حاصل نہیں کیا گیا۔

چائنہ کی مثال لیں لیکن ہم نے سبق نہ حاصل کیا۔ پاکستان سٹیل مل تباہ کر دی گئی۔ اس کے لئے سامان تو ہمارے اپنے پہاڑوں میں موجود ہے۔ لیکن ہم درآمد نہیں کر رہے ہیں کاٹج فیکٹری تباہ ہو چکی ہے۔ کسان کا برا حال ہے۔ خواتین کے ساتھ بہت زیادتی ہو رہی ہے۔ فاٹا کی وہ خواتین جو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بے گھر ہوئی ہیں اور جن کے خاوند جنگ کی نظر ہوئے۔

(جاری ہے)

حکومت نے ان خواتین کے لئے کچھ نہیں کیا۔ شاید بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی فاٹا کی خواتین کے لئے نہیں ہے۔ یوتھ کو بھی ہم نے استعمال کے لئے کوئی پلان نہیں دیا، پانی کے حوالے سے پارلیمنٹ پالیسی بنانے میں تاحال ناکام رہی ہے۔ میری درخواست ہو گی کہ وزیر خزانہ مفلوج افراد کے لئے اس بجٹ میں ضرور کوئی بزنس پلان دیں۔ مائیکرو فنانس کی صورت میں انہیں سپورٹ دے کر معاشرے کا کا رآمد شہری بنایا جا سکتا ہے۔۔