عدم برداشت کے خاتمے کے لئے ہمارے پاس آخری موقع ہے،خواجہ آصف

ذاتی مفادات کو چھو ڑکر آئندہ نسلوں کو پر امن ملک دینے کے لئے فیصلے کریں آصف زرداری نے نواز شریف سے متعلق بیانات دے کر محسن کشی کی، فاروق ایچ نائق نے میرا کیس لڑنے کی حامی بھری آصف زرداری کے کہنے پر انکار کر دیا،نجی ٹی وی کو انٹرویو

پیر مئی 23:19

عدم برداشت کے خاتمے کے لئے ہمارے پاس آخری موقع ہے،خواجہ آصف
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عدم برداشت کے خاتمے کے لئے ہمارے پاس آخری موقع ہے ذاتی مفادات کو چھو ڑکر آئندہ نسلوں کو پر امن ملک دینے کے لئے فیصلے کریں۔ آصف زرداری نے نواز شریف سے متعلق بیانات دے کر محسن کشی کی۔ فاروق ایچ نائق نے میرا کیس لڑنے کی حامی بھری آصف زرداری کے کہنے پر انکار کر دیا۔

گزشتہ روز نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بد قسمتی سے ہمارے ملک کے ہر ادوار سویلین ہو یا فوجی اپنے سیاسی مقاصد کے لئے ایسے مسائل کو ہوا دی جس کے وقتی طور پر حکمرانوں کو فائدہ پہنچا۔ خصوصاً 80ء کی دہائی میں مذہب کو شدت پسندی کے لئے استعمال کیا گیا۔ امریکا کے اتحادی بن کر چند بلین ڈالر ملے اس وقت سے فرقہ واریت کو توقیت ملی ۔

(جاری ہے)

اس وقت کا جہاد میڈ ان یو ایس اے تھا۔ دور حاضر میں جس فرقے میں انتہا پسندی شروع کی وہ بریلوی فرقہ ہے جس میں پہلے انتہا پسندی نہیں تھی ملک کے تمام مسالک میں انتہا پسندی آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ایجنڈے سائیڈ پر رکھنے کا وقت ہے۔ ہماری اجتماعی ذمہداری ہے ملک کو اس ڈگر پر ڈالیں جس پر قائداعظم لے کر جانا چاہیئے تھا۔ ختم نبوت ؐ میرے ایمان کا حصہ ہے اس کے بغیر میں مسلمان نہیں ہوں۔

سیاسی افراد کی حالیہ دو ماہ کے اندر کی تقریروں موجود جن میں کہا گیا کہ گولی مار دو ۔ ملک میں فاد کے لئے فتوے فروخت ہو رہے ہیں ہم بیرونی طاقتوں سے اپنے ملک کا دفاع کر سکتے ہیں۔ ملک کو اندرونی انتہا پسندی کا سامنا ہے ۔ ملک کو بہتر کرنے کے لئے صرف حکمران اشرافیہ اور فوج کی ذمہ داری نہیں سب لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ پرویز مشرف کے اقدامات کا خمیازہ قوم نے بھگتا آگے بھی بھگتی رہے گی۔

تمام سیاسی جماعتیں آئندہ الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ ہمیں انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے اپنے ذاتی ایجنڈوں کو ایک طرف رکھنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہمارے پاس آخری موقع ہے ۔ آئندہ نسلوں کو پر امن ملک دینے کے لئے فیصلے کرنے چاہیئے۔ عدم برداشت ملک کو تباہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے نواز شریف سے متعلق جو بایتں کی وہ نہیں کرنی چاہیئے تھیں۔

میں حلفاً کہتا ہوں کہ آصف زرداری نے مختلف جگہوں پر نواز شریف کو کہا بی بی پیپلز پارٹی چھوڑ نہیں رہیں۔ اسمیں میری قبولیت صفر ہے میری مدد کریں یہ لوگ امین فہیم کے دگر اکٹھے ہو رہے ہیں۔ مجھے فارغ کر کے بیرون ملک بھیج دیں گے۔ مشرف جان چھوڑ ار عدلیہ بحال کروانے میں ہماری دلچسپی تھی۔ انہوں نے ہمارے ساتھ زبان کی ان مسائل پر آصف زرداری نے ہمیں کہا کہ اعلان کر دیں ہمیں کوئی ایسا شخص قبول نہیں جس کے مشرف سے رابطے ہوں۔

آصف زرداری یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنانا چاہتے تھے۔ مخدوم امین فہیم کو پی پی کی حمایت حاصل تھی اور وہ ان کے راستے کی رکاوٹ تھے۔ آصف زرداری کی جانب سے پیغام موصول ہو رہے ہیں کہ مجھے ٹی وی پروگرام میں یہ باتیں نہیں کرنی چاہیئے میں اپنے کیس میں فاروق ایچ نائک کو وکیل کرنا چاہتا تھا وہ تیار تھے مگر آصف علی زرداری کے نراض ہونے پر میری وکالت کرنے سے انکار کر دیا۔

آصف زرداری نے نواز شریف کے متعلق بیانات دے کر محسن کشی کی ہے۔ زرداری سے ذاتی تعلقات رہے بلاول نے کہا کہ پارٹی ہمارے پاس ہونے پر خواجہ آصف کا ہمیشہ احسان مند رہتا۔ وہ ذاتی مفاد تحفظ کرتے ہیں پارٹی کا نہیں ۔ زرداری نے اینٹ سے اینٹ والا بیان نواز شریف کے کہنے پر نہیں دیا وہ کسی کے کہنے پر اتنا بڑا بیان نہیں دے سکتے۔۔