وزیر داخلہ پر قاتلانہ حملہ؛ ملک کی وہ معروف سیاسی شخصیات جو قاتلانہ حملوں کا شکار ہو گئیں

ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان سے بے نظیر بھٹو تک متعدد سیاستدان قاتلانہ حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس پیر مئی 23:22

وزیر داخلہ پر قاتلانہ حملہ؛ ملک کی وہ معروف سیاسی شخصیات جو قاتلانہ ..
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار- 07مئی 2018ء ) :وفاقی وزیر داخلہ احسن پر قاتلانہ حملے کے بعد ملک میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔سیاسی رہنماوں کو یوں موت کے گھاٹ اتار دینے کے ان گنت واقعات موجود ہیں۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان سے بے نظیر بھٹو تک متعدد سیاستدان قاتلانہ حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے نے بہت سے تلخ یادوں کو جنم دے دیا۔

سیاسی رہنماوں کو یوں موت کے گھاٹ اتار دینے کے ان گنت واقعات موجود ہیں۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان سے بے نظیر بھٹو تک متعدد سیاستدان قاتلانہ حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔سب سے پہلے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو 16 اکتوبر 1951 ءکو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولیوں کو نشانہ بنا دیا گیا بعد ازاں انکے مبینہ قاتل سید اکبر کو بھی وہیں قتل کر دیا گیا ۔

(جاری ہے)

ہماری سیاسی تاریخ کا دوسرا بڑا قتل سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کا تھا جنہیں اسی لیاقت باغ میں 23دسمبر 2007کو اندھی گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا ۔اس کے علاوہ بھی متعدد سیاستدان اب تک ایسے قاتلانہ حملوں میں اپنی جان گنو ا چکے ہیں۔۔پاکستان پیپلز پارٹی کے پہلے اور ذولفقار بھٹو کے زمانے میں سرحد کے معروف لیڈر حیات شیرپاو ایک جلسے میں دھماکے کے ذریعے قتل کیا گیا جس کی ذمہ داری اے این پی پر ڈال دی گئی۔

معروف قانون دان اور پیپلز پارٹی کے بانی رہنما احمد رضا قصوری کے والد نواب احمد خان کو بھی ذولفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں قتل کر دیا گیا تھا۔موجودہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے والد خواجہ رفیق کو بھی لاہور میں سیاسی رنجش کی بنا پر قتل کیا گیا۔جنرل ضیاءالحق کے دور حکومت میں چودھری شجاعت کے والد چودھری ظہور الٰہی کو قتل کیا گیا۔

ان کے قتل کے الزام میں پی پی پی کے کارکن کو پھانسی دی گئی۔۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر مملکت برائے امور خارجہ صدیق خان کانجو کو جولائی 2001 ءمیں کروڑ پکا میں قتل کیا گیا تھا جبکہ معروف بلوچ رہنما اکبر بگٹی کو بھی مشرف دور میں حکومتی مشینری کے ہاتھوں جان گنوانی پڑی۔تا ہم اب وقت کا تقاضا ہے کہ ہماری سیاست میں برداشت کا کلچر فروغ پائے اور عوامی نمائندوں اور سیاستدانوں کو اس طرح قتل کرنے کا سلسلہ بن ہونا چاہیے۔