پی آئی اے کیس؛ سپریم کورٹ نے سابق مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا

آپ عدالت میں جیب سے ہاتھ نکال کر کھڑے ہوں، دوران سماعت شجاعت عظیم کی سرزنش

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل مئی 11:11

پی آئی اے کیس؛ سپریم کورٹ نے سابق مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم کا نام ای ..
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔08 مئی 2018ء) پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نجکاری کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے سابق مشیر ہوابازی شجاعت عظیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔۔سپریم کورٹ میں پی آئی اے نجکاری کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔۔سپریم کورٹ میں دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے ہیں کہ ‎ٹیکس کے پیسے کوپی آئی اے والے کھاتے جا رہے ہیں،۔

ادارے کو نقصان پہنچانے والے ذمہ داروں کو نہیں چھوڑیں گے۔۔سماعت کے دوران سابق مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم اور مہتاب عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔کیس کی سماعت کے دوران معاشی تجزیہ نگار فرخ سلیم نے بتایا کہ پی آئی میں سیاسی جماعتوں سے وابستگی والی 7یونینز ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 2013 سے 2016تک جہاز لیز پر لیے گئے۔جہاز لیز پر لینے کے وقت ایم ڈی کون تھے؟۔

جس کا جواب دیتے ہوئے فرخ سلیم کا کہنا تھا کہ 2016 میں لیز پر لیے گئے جہازوں کیلیے 9 ارب روپے ادا کیے گئے۔2008 سے 2017 تک 45 جہازوں کو لیز پر لیا گیا۔۔چیف جسٹس نےکہا کہ ایسے جہازوں کیلیے اسپئیر پارٹس کی خریداری پر پیسہ خرچ ہوا۔ فرخ سلیم کا کہنا تھا کہ 1990سے پی آئی اے کے پاس اسپئر پارٹس پڑے ہیں۔جوآج تک استعمال نہیں ہوئے۔2016 میں پی آئی اے کے میڈیکل اخراجات 3 ارب روپے کے ہیں۔

پی آئی اے کے کارگو نقصانات کا جائزہ لینا ہوگالیز کےجہاز گراؤنڈ ہونے سے 6.67 ارب روپے کا نقصان ہوا۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ جہاز چلیں گے تو نفع آئے گا۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ پی آئی اے کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے۔کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن کہا کہ لیز پر جہاز لے کر گراؤنڈ کر دئیے گئے۔جہاز کو گراؤنڈ کرنے سے 36 ارب روپے کا نقصان ہوا۔کیس کی سماعت کے دوران فرخ سلیم نے یہ بھی بتایا کہ 2013میں پی آئی اے کےدو لاکھ 87 ہزار ٹکٹس بانٹے گئے۔

اور ٹکٹوں کی تقسیم سے 5 ارب اک نقصان ہوا تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس کو پی آئی کے ٹکٹ مفت میں دئیے گئے؟ ٹکٹوں کا معاملہ بعد میں دیکھیں گے۔۔سپریم کورٹ نے سابق مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔۔سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے سابق مشیر ہوابازی شجاعت عظیم کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت میں جیب سے ہاتھ نکال کر کھڑے ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کھانے پینے کے ٹھیکے کس کو دیے گئے؟ جو دینا ہے وہ تحریری طور پر دیں۔شجاعت عظیم کا کہنا تھا کہ مجھے دوہری شہریت کی وجہ سے ایک ماہ بعد نکال دیا گیا تھا۔میں ایڈوائزری تھا۔جب آیا تو اسلام آباد ائیرپورٹ کی حالت بری تھی۔میں دو سال مشیر ہوا بازی رہا میرا تعلق پی آئی سے نہیں تھا۔۔چیف جسٹس نے شجاعت عظیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب نقصان آپ کے دور میں ہوا۔۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے شجاعت عظیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے اور ان کے خلاف تحقیقات کرکے ریفرنس فائل کرنے کا حکم دے دیا۔