پاک چین اقتصادی راہداری سے اگر فائدہ اٹھا کر معاشی ترقی کو 9 فیصد تک بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔وزیراعظم شاہدخاقان عباسی

ہوا بازی کا شعبہ اگرچہ بہت زیادہ پرکشش دکھائی دیتا ہے تاہم دنیا کی 80 فیصد عالمی تجارت ابھی بھی بحری راستہ سے ہوتی ہے‘بحرہند میں سیکورٹی خدشات سے آگاہ ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز میں سیمنیار سے خطاب

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل مئی 12:11

پاک چین اقتصادی راہداری سے اگر فائدہ اٹھا کر معاشی ترقی کو 9 فیصد تک ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔08 مئی۔2018ء) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت پاک چین اقتصادی راہداری سے اگر فائدہ اٹھائے تو اس میں 9 فیصد تک بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے یہ بات انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد میں”بحر ہند کے خطے ، اس سے ملحقہ علاقوں کی اقتصادیات اور پاکستان کی ترقی کے امکانات پر بیلٹ اینڈ روڈ انیشییٹو کے اثرات “ کے موضوع پر سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

تقریب میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی، بحریہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایڈمرل محمد شفیق، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ اور ڈی جی میری ٹائم افیرز ریئر ایڈمرل مختار خان نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 6 فیصد ہے تاہم سمندر تک رسائی کو مناسب طور پر بروئے کار لا کر اس میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہوا بازی کا شعبہ اگرچہ بہت زیادہ پرکشش دکھائی دیتا ہے تاہم 80 فیصد عالمی تجارت ابھی بھی بحری راستہ سے ہوتی ہے۔۔وزیراعظم نے کہا کہ میری ٹائم کا شعبہ ہر ملک کیلئے بہت اہم ہوتا ہے اور پاکستان نے پاک بحریہ اور مرچنٹ نیوی میں روایات قائم کی ہیں اور آج بھی کئی پاکستانی مرچنٹ نیوی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ سمندر تک رسائی کی فراہمی بہتر اقتصادی مواصلاتی روابط کیلئے ضروری ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بحرہند کا علاقہ عالمی توانائی کے بہاﺅ اور تجارت کیلئے اہم مرکز ہے کیونکہ اس علاقے سے توانائی کا بہت زیادہ بہاﺅ ہے اور خطے کے تجارتی حجم میں اضافے کیلئے یہ بہت اچھا موقع ہے۔خطے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ افغانستان کے ذریعے گوادر تک وسطی ایشیائی ریاستوں کی رسائی کو یقینی بنانے کیلئے افغان مسئلہ کا حل ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستیں بندرگاہ سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے سی پیک کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتی ہیں، پاکستان اس وقت 1700 کلومیٹر سے زائد موٹرویز نیٹ ورک بالخصوص بلوچستان میں 1200 کلومیٹر طویل دیگر سڑکوں کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے منصوبے گوادر کی بندرگاہ کیلئے معاون ہوں گے، پاکستان کو علاقائی روابط کے فروغ اور مالیاتی ہم آہنگی کیلئے چین کے صدر شی جن پنگ کے وڑن پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں بہت زیادہ مواقع موجود ہیں جس سے نہ صرف ملک میں بلکہ پورے خطے میں اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ بحر ہند کے خطے کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی بحری معیشت کے اثرات بحرِ ہند کی تجارت کے بڑے حصے کے طور پر نظر آرہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بحرِ ہندکی اہمیت اور عالمگیریت کے ابھرتے ہوئے جدید رجحانات کے پیشِ نظر ”ربط سازی، آزادانہ تجارت اورعالمی مربوطیت “کے معاشی اہداف سے بھر پور ”بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹیو“ کے تصور اور اس کے اعلان پر ہم چین کے صدر ژی جن پنگ کی کاوشوں کو خرا ج تحسین پیش کرتے ہیں۔

اس منصوبے کے مثبت اثرات کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہے اور معاشی فوائد بہت زیادہ ہیں۔ ہم سی پیک کے ذریعے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹیوسے بھر پور استفادہ کریں گے جس میں گوادر بندر گاہ اہم کردار ادا کرے گی۔ٍوزیرِ اعظم نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹیوکی بدولت تجارتی سرگرمیوں میں ہونے والے اضافے پر روشنی ڈالی جس کے خطے اور خطے سے جڑے ممالک پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم چاہ بہار اور گوادر بندرگاہ کے بھر پور کردار کو یقینی بنانے کے لیے منصوبہ بندی پر کام کررہے ہیں تاکہ سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹیوکی صلاحیت کو وسیع کیا جائے اور اس سے مکمل استفادہ حاصل کیا جائے۔اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ خطے کے ممالک افغانستان میں معاشی سرگرمیوں کا آغاز کر سکتے ہیں تا کہ خوشحالی اور سماجی اقتصادیات سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے رحجان کا خاتمہ کیا جائے۔

عالم اور خطے کے لیے یہ فتح کی صورت ہو گی۔ میری ٹائم خطرات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم بحرِ ہند کے سیکورٹی خدشات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔ان سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے ، بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹیوکو پرامن بنانے اور اس خطے کو معاشی طور پر خوشحال بنانے کے لیے مشترکہ اور مربوط کاوشوں کی ضرورت ہے۔۔وزیراعظم نے پاکستان بالخصوص سی پیک اور گوادر بندرگاہ کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کی مسلح افواج بالخصوص پاک بحریہ کے کرادر کو سراہا۔

وزیراعظم نے میری ٹائم آگہی اور میری ٹائم پالیسی کے فروغ میں پاک بحریہ، بحریہ یونیورسٹی اور انسٹیٹیوٹ آف میر ی ٹائم افیئرز کی خدمات کی بھی تعریف کی۔انہوں نے تمام شرکاءبشمول تعلیمی اداروں، میڈیا، سول سوسائٹی آرگنائزیشن اور پرائیویٹ سیکٹر پر زور دیا کہ اس طرز کے مباحثوں کو امن ،خوشحالی اور ترقی میں بدلنے کے لیے ایسی کاوشوں کا بھر پور ساتھ دیں۔

اپنے افتتاحی کلمات میں پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے کہا کہ سمپوزیم کے موضوع کا خطے کی تجارتی تاریخ سے گہرا تعلق ہے جو نسلی ،مذہبی اور ثقافتی فرق سے بالاتر ہے۔اکیسویں صدی میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹیوکے ذریعے ’اقتصادی نیٹ ورکنگ‘ کا تصور نہ صرف تاریخی رشتوں کا احیاءہو گا بلکہ اقوام کی معاشی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گا جو ایشیاء، افریقہ اور یورپ اور اس سے جڑے خطے کی بین البراعظمی تجارتی راہداریوں کی تجدید بھی کرے گا۔

بحر ہند کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے نیول چیف نے کہا کہ بحرِ ہند عالمی جغرافیائی سیاست کا مرکز ہے اوردنیا کی خوشحالی کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے۔ تاہم گزشتہ چند عشروں کے دوران یہاں جغرافیائی سیاست میں بھونچھال آیا ہے۔ ابتداءمیں اس تبدیلی کے دوران سکیورٹی پر توجہ مرکوز کی گئی۔بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹیو ایک ایسی کا وش ہے جس کا مقصد اس تبدیلی کو جغرافیائی اقتصادیات میں بدلنا ہے۔

اس تناظر میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹیو بشمول سی پیک جیسے اہم ترین پروجیکٹ کے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، ترقی اور نتیجتاً خطے کی غریب آبادی کا معاشی معیار بلند کرنے کاعہد ہے۔ بہرحال،بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹیو کے ساتھ ساتھ علاقائی اور غیر علاقائی سطح پر کچھ پیچیدگیاں بھی ہیں کیونکہ اس منصوبے نے مسابقت، اثرورسوخ ، معاشی فوائد ، اور سیکورٹی مفادات کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کے میری ٹائم منظر نامے کے اہم ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ ماضی قریب میں ہونے والی پیش رفت بالخصوص سی پیک نے میر ی ٹائم سیکٹرکو ہمارے قومی ایجنڈے میں سرفہرست درجے پر پہنچایا ہے۔اس طرح یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ میری ٹائم سیکٹر کی مربوط ترقی کو عمل میں لایا جائے تاکہ ملک کی مجموعی اقتصادیات میں معنی خیز طریقے سے کردار ادا کیا جائے۔

پاکستان کے میری ٹائم ذخائر کی دریافت اور ان سے مکمل استفادہ کر کے قومی معیشت میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔حکومتِ پاکستان میری ٹائم سیکٹر کی ترقی کے لیے ہر ممکنہ اقدامات کر رہی ہے جو پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گا۔بحرِ ہند پربیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹیو کے اثرات، حکمت عملی میں تبدیلی اور خطے کی معاشی ترقی میں اضافے کے تناظر میں ڈائریکٹر جنرل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز نے کہا کہ اس سیمنار کاموضوع عالمی سطح پر زیرِ بحث بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹیوکا گہرائی سے تجزیہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

اگرچہ موضوع میں بحرِہند پربیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹیوکے جغرافیائی معاشی اثرات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے لیکن اس منصوبے کو ایک ایسا منصوبہ خیال کیا جاتا ہے جو عالمی جغرافیائی سیاست بھی بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹیو چین کی ایشیاء، یورپ اور افریقہ کے ساتھ مربوطیت کی حکمت عملی میں بھی ایک تبدیلی ہے اور اس عمل میں ان خطوں میں اقتصادی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے انفراسٹرکچر تعمیر کیا گیا ہے۔بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹیو کا اہم ترین منصوبہ سی پیک بحرِ ہند اور اس سے ملحقہ ممالک کی خوشحالی اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔