سپریم کورٹ نے اسحاق ڈار کی سینیٹ رکنیت معطل کر دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل مئی 12:56

سپریم کورٹ نے اسحاق ڈار کی سینیٹ رکنیت معطل کر دی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 08 مئی 2018ء) : سپریم کورٹ نے ن لیگی رہنما اسحاق ڈار کی سینیٹ رکنیت معطل کر دی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں اسحاق ڈار کے آمدن سے زائد اثاثوں کے ضمنی ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ن لیگی رہنما اسحاق ڈار کی سینٹ رکنیت معطل کر دی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیاکہ اسحاق ڈار کہاں ہیں؟ جس پر اسحاق ڈار کے وکیل نے جواب دیا کہ میرے موکل بیمار ہیں، لہٰذا عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔

وکیل نے عدالت میں اسحاق ڈار کی میڈیکل رپورٹ بھی پیش کی ۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آج اسحاق ڈار کو عدالت میں طلب کیاگیا تھا ۔ اسحاق ڈار اتنا بیمار نہیں ہو سکتے ، ہر مرتبہ میڈیکل رپورٹ پیش کر کے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی جاتی ہے ۔

(جاری ہے)

عدالت نے کہا کہ اگر اسحاق ڈار واقعی علیل ہیں تو ہم ان کی وطن واپسی اور صحتیابی کا انتظار کر لیتے ہیں ، انہیں ایک دن تو آنا ہی پڑے گا۔

جس کے بعد عدالت نے اسحاق ڈار کی سینٹ رکنیت معطل کر دی۔ اور کیس کی مزید سماعت کو عید الفطر کے بعد تک ملتوی کر دیا۔ یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے اپیلٹ الیکشن ٹربیونل نے 17 فروری کو سابق وزیرِ خزانہ کے خلاف ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے اسحاق ڈار کو سینیٹ انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی جس کے بعد 3 مارچ کو ہونے والے انتخاب میں اسحٰق ڈار سینیٹر منتخب ہوگئے تھے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار نوازش پیرزادہ نے نو مارچ کو اسحاق ڈار کی نااہلی سے متعلق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی تھی جس میں انہوں نے سابق وزیرِ خزانہ کو سینیٹ انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دینے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرنے کی استدعا کی تھی۔وازش پیرزادہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی مفرور خود کو قانون کے حوالے کرنے تک الیکشن نہیں لڑسکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے اسحاق ڈار کو مفرور ہوتے ہوئے بھی الیکشن لڑنے کی اجازت دی۔ اسحاق ڈار قانون کا مذاق اڑا رہے ہیں اور انصاف کے راستے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔درخواست گزار کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے حقائق کے برعکس فیصلہ دیا، چونکہ قانون کے تحت مفرور ملزم کے کوئی بنیادی حقوق نہیں ہوتے، لہٰذا عدالت عظمیٰ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکا جائے۔

سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کی جانب سے مفرور قرار دیے جانے والے سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی بطور سینیٹر کاغذاتِ نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اسحاق ڈار،، الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سینئر وکیل بابر ستار کو عدالتی معاون مقرر کیا تھا۔گذشتہ ماہ 24 اپریل کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سینیٹ الیکشن کیس کی سماعت چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسحاق ڈار کو ذاتی حیثیت میں 8مئی کوطلب کیا تھا۔سابق وزیرِخزانہ اسحاق ڈار کا میڈیکل سرٹیفکیٹ مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ اسحاق ڈار اتنے عرصے تک بیمار نہیں ہوسکتے،عدالتی حکم میں اسحاق ڈار کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا کہا گیا تھا، وہ آجائیں اسحاق ڈار عدالتی حکم کی پیروی کریں۔۔اسحاق ڈار کواگر گرفتاری کا ڈر ہے تو انہیں حفاظتی ضمانت دے دیں گے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ اگراسحاق ڈار پیش نہ ہوئے تویکطرفہ کیس کی کاروائی چلائی جائے گی۔ خیال رہے کہ اسحاق ڈار امریکہ میں علاج کی غرض سے مقیم ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ جتنی جلدی ہو سکے اپنے وطن پاکستان آنا چاہتا ہوں لیکن فی الحال مجھے میرے ڈاکٹر وطن واپسی کی اجازت نہیں دے رہے،،میرا یہاں علاج جاری ہے،مجھے اپنے ڈاکٹروں کی بات بھی سننا پڑتی ہے،،میرا خاندان بھی مجھے یہاں اپنا علاج جاری رکھنے اور ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کرنے پر زور دیتا ہے،اپنی میڈیکل رپورٹس مسلسل عدالت کو بھیج رہا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے سفر کرنے کی اجازت دی تو میں ضرور کروں گا ورنہ بڑے ادب کے ساتھ پھر چیف جسٹس آف پاکستان کو اپنے کونسل کے ذریعے یہاں کی رپورٹ بھیجوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میرے ڈاکٹروں نے مجھے ابھی 6 سے 8 ہفتے سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہونی چاہیئے کہ یہاں کی رپورٹ غلط نہیں ہو سکتی کیونکہ رپورٹ کی یہاں کی وزارت خارجہ تصدیق کرتی ہے،اس کے بعد میں یہ رپورٹ بھیجتا ہوں۔

اسحاق ڈار کی عدم موجودگی پر حکومتی جماعت نے ہنگامی طور پر مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ کا قلمدان سونپ دیا تھا جس پر اسحاق ڈار نے ناراضی کا اظہار کیا تھا، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ن لیگی شخصیت سے شکوہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، مجھے فارغ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اسحاق ڈار کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ وزیر خزانہ ان کے علاوہ کسی اور کو نہیں بنایا جائے گا۔