تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنمائوں کے درمیان مذاکرات کامیاب

جنوبی پنجاب صوبہ محاذ نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا ،ْ(آج)اعلان کیا جائیگا یہ ہماری پارٹی کے لیڈنگ ممبران ہوں گے، پارٹی کو ان کی ضرورت ہے اور ان کے سیاسی تجربے سے فائدہ ہوگا ،ْ جہانگیر ترین

منگل مئی 14:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنماؤں میں مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد جنوبی پنجاب صوبہ محاذ نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رہنما خسرو بختیار نے 9 اپریل کو پارٹی چھوڑنے اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے کا اعلان کیا جبکہ پریس کانفرنس میں (ن) لیگ کے 8 ایم این ایز اور 2 ایم پی ایز نے پارٹی سے استعفیٰ دیا۔

مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی کے بعد تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے درمیان مذاکرات جاری تھے اور اس سلسلے میں تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں کمیٹی مذاکرات کررہی تھی۔۔تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جس کے بعد جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنماؤں نے تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنما (آج) بدھ کو عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی میں ضم ہونے کا اعلان کریں گے۔۔تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین نے اس حوالے سے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ سے مذاکرات کامیاب ہونے کی تصدیق کی۔۔جہانگیر ترین نے کہا کہ خسرو بختیار اور دیگر رہنماؤں سے کافی عرصے سے مذاکرات جاری تھے جن میں پی ٹی آئی کے 29 اپریل کے جلسے کے بعد تیزی آئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ سے درخواست کی تھی کہ اکٹھے ہوکر صوبے کیلئے کوشاں ہوں اور اسے کامیاب بنائیں۔۔جہانگیر ترین نے کہاکہ بدھ ایک تاریخی دن ہے جس میں جنوبی پنجاب کے نئے روشن مستقبل کا اعلان ہوگا، جنوبی پنجاب صوبہ محاذ والے تحریک انصاف میں ضم ہوں گے، ، عمران خان کل جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنماؤں کیپاس جائیں گے جہاں پریس کانفرنس ہوگی۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم مل کر الیکشن لڑیں گے جو (ن) لیگ کو بڑا جھٹکا ہے، (ن) لیگ کا وجود جنوبی پنجاب میں بہت کم رہ گیا ہے اور پیپلزپارٹی کا خاتمہ ہوگیا ہے۔۔جہانگیر ترین کا کہنا تھاکہ یہ ہماری پارٹی کے لیڈنگ ممبران ہوں گے، پارٹی کو ان کی ضرورت ہے اور ان کے سیاسی تجربے سے فائدہ ہوگا۔