قومی اسمبلی نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کو مزید 120 دنوں کے لئے توسیع دینے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی

قرارداد کے حق میں 48 ،ْ مخالفت میں 34 ووٹ دیئے گئے ،ْ قومی اسمبلی کا اجلاس (آج)صبح ساڑھے دس بجے پھر ہوگا فاٹا کے انضمام سے پہلے فاٹا کے عوام کے مستقبل کا فیصلہ ان سے پوچھ کر کیا جائے ،ْ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کا مطالبہ

منگل مئی 15:00

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) قومی اسمبلی نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کو مزید 120 دنوں کے لئے توسیع دینے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی‘ قرارداد کے حق میں 48 ،ْ مخالفت میں 34 ووٹ دیئے گئے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد نے قرارداد پیش کی کہ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کو 10 مئی 2018ء سے مزید 120 دنوں کے لئے توسیع دی جائے۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ اس پر حکومت کو بل کی صورت میں لانا چاہیے تھا۔ وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ بعض وجوہات کی بناء پر یہ بل کی صورت میں نہیں لایا جاسکا۔ ارکان سے گزارش ہے کہ اس قرارداد کی منظوری دے دیں۔ اپوزیشن کے اصرار پر ڈپٹی سپیکر نے قرارداد پر رائے شماری کے لئے ارکان کو باری باری کھڑا کرکے رائے لی ۔

(جاری ہے)

قرارداد کے حق میں 48 جبکہ مخالفت میں 34 ارکان نے رائے کا اظہار کیا۔ قومی اسمبلی نے قرارداد کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔اجلاس کے دور ان پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقہار ودان نے مطالبہ کیا ہے کہ فاٹا کے انضمام سے پہلے فاٹا کے عوام کے مستقبل کا فیصلہ ان سے پوچھ کر کیا جائے ۔نکتہ اعتراض پر عبدالقہار ودان نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے عوام میں فاٹا کے انضمام کے حوالے سے غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

فاٹا کے عوام سے پوچھ کر ان کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے۔ سابق سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے مطالبہ کیا کہ سندھ کے شہریوں کو شدید لوڈشیڈنگ کی اذیت سے نجات دلانے کے لئے وفاقی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ سابق سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے وزیر داخلہ پر حملہ کی مذمت کی اور کہا کہ آئندہ الیکشن میں عوام اور سیاسی اکابرین کے تحفظ کی ذمہ داری کون لے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ہو یا بدین وہاں پر شدید لوڈشیڈنگ ہے۔ لوگ گرمی سے مر رہے ہیں‘ بچے نہ سو پاتے ہیں نہ سکول جاسکتے ہیں۔ وہاں پر قیامت اور جہنم کا سماں ہے۔ حکومت کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس (آج) بدھ کی صبح ساڑھے دس بجے تک کے لئے ملتوی کردیا گیا۔