احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، مریم نواز اور کپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف دائر ریفرنس میں نیب کی استدعا مسترد کردی، جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء بیان قلم بند کرانے کے لئے 10 مئی کو طلب

تینوں ریفرنسز پر فیصلہ ایک ساتھ ہی کیا جائے گا، فیصلے کیلئے دی گئی مدت بڑھانے کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے، جج محمد بشیر، سپریم کورٹ کو مزید تین ماہ کا وقت دینا چاہئے، خواجہ حارث

منگل مئی 15:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف،، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف دائر ریفرنس میں نیب کی استدعا مسترد کرتے ہوئے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو بیان قلم بند کرانے کے لئے 10 مئی کو طلب کر لیا ہے، فاضل جج محمد بشیر نے کہا ہے کہ تینوں ریفرنسز پر فیصلہ ایک ساتھ ہی کیا جائے گا، عدالت نے نیب ریفرنسز میں فیصلے کیلئے دی گئی مدت بڑھانے کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے جبکہ نواز شریف کے خواجہ حارث نے کہا کہ میرے خیال میں سپریم کورٹ کو مزید تین ماہ کا وقت دینا چاہئے، فاضل جج نے کہا کہ یہ تو سپریم کورٹ کا اختیار ہے کہ کتنا وقت دیا جاتا ہے۔

منگل کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت کی، اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی پیش نہیں ہوئے اور نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی نے عدالت کو بتایا کہ سردار مظفر عباسی پراسیکیوٹر جنرل کے ساتھ میٹنگ میں ہیں، سردار مظفر نے پراسیکیوٹر جنرل سے کیس سے متعلق ہدایات لینا ہیں۔

(جاری ہے)

نیب پراسیکوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کی سماعت میں ساڑھے بارہ بجے تک وقفہ کیا جائے۔

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اختیار کیا کہ سردار مظفرعباسی مصروف تھے تو ہمیں پہلے آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ عدالت نے ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل نیب کی عدم حاضری کی بناء پر سماعت میں وقفہ کر دیا۔ وقفہ کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ کیس سے متعلق حاصل شدہ شواہد اور شہادتیں عدالت میں پیش کردی ہیں۔

نیب نے ایون فیلڈ ریفرنس میں ملزمان کا بیان قلمبند کرنے کی استدعا کی۔ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے نیب کی استدعا کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پہلے دیگر دو ریفرنسز میں جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کا بیان قلمبند کیا جائے، واجد ضیاء کے بیان سے پہلے ملزمان کا بیان قلمبند کرنے سے ہمارا دفاع ظاہر ہوجائے گا۔

ا نہوں نے کہا کہ اسی عدالت نے اپنے 8 نومبر 2017 کے حکمنامے میں لکھا ہے کہ ایک ریفرنس میں بیان ہونے کے بعد واجد ضیاء کا دیگر دو ریفرنسز میں بیان قلمبند کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت ٹی وی انٹرویوز اور اینکرز کی بات سننا شروع کردے تو ٹرائل کی کیا ضروت ہے، واجد ضیاء کا بیان پہلے قلمبند کرنے سے پراسیکیوشن کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

فاضل جج محمد بشیر نے ریمارکس دیئے کہ نیب ریفرنسز میں فیصلے کیلئے دی گئی مدت بڑھانے کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے، سپریم کورٹ سے درخواست پر فیصلہ آجائے تو پھر 342 کے بیان کا معاملہ دیکھیں گے۔ فاضل جج محمد بشیر نے کہا کہ تینوں ریفرنسز پر فیصلہ ایک ساتھ ہی کیا جائے گا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ میرے خیال میں سپریم کورٹ کو مزید تین ماہ کا وقت دینا چاہئے۔

فاضل جج محمد بشیر نے کہا کہ یہ تو سپریم کورٹ کا اختیار ہے کہ کتنا وقت دیا جاتا ہے۔ مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے وکیل امجد پرویز نے موقف اخیتار کیا کہ شفاف ٹرائل کا تقاضا یہی ہے کہ ہمیں بھی اتنا ہی وقت ملنا چاہیئے جتنا پراسیکیوشن کو ملا ہے، پراسیکیوشن نے 18گواہوں پر 8 ماہ لگا دئیے تھے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جسے بعد میں سناتے ہوئے عدالت نے نیب کی استدعا مسترد کردی اور واجد ضیاء کو دیگر دو ریفرنس میں بیان قلم بند کرانے کے لئے طلب کرتے ہوئے سماعت 10 مئی تک ملتوی کر دی ۔