سپریم کورٹ نے موبائل فون کارڈز پر دہرا ٹیکس لگانے کو غیر قانونی قرار دیدیا

صوبے کس قانون کے تحت سیلز ٹیکس لگا رہے ہیں ‘ کیا ڈبل ٹیکس لگانا استحصال نہیں ‘جو شخص ٹیکس دینے کا اہل نہیں اس پر ود ہولڈنگ ٹیکس کیوں لگایا‘موبائل فون کے استعمال پر ودہولڈنگ ٹیکس کیسے لیا جارہا ہی ‘چیف جسٹس نے ریمارکس چیف جسٹس نے ڈیزل اور پٹرول پر ہوشربا ٹیکس کے اطلاق کا بھی نوٹس لینے کا عندیہ دیدیا

منگل مئی 15:40

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے موبائل فون کارڈز پر دہرا ٹیکس لگانے کو غیر قانونی قرار دیدیا جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ صوبے کس قانون کے تحت سیلز ٹیکس لگا رہے ہیں، کیا ڈبل ٹیکس لگانا استحصال نہیں ‘جو شخص ٹیکس دینے کا اہل نہیں اس پر ودہولڈنگ ٹیکس کیوں لگایا‘موبائل فون کے استعمال پر ودہولڈنگ ٹیکس کیسے لیا جارہا ہی ۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فون کارڈز اور ایزی لوڈ پر 12.7 فیصد ود ہولڈنگ ڈیوٹی اور 19.5 فیصد سیل ٹیکس کاٹا جاتا ہے‘ 100 روپے کے کارڈ پر 10 فیصد سروس چارجز بھی وصول کیے جاتے ہیں۔ جبکہ چیف جسٹس نے ڈیزل اور پٹرول پر ہوشربا ٹیکس کے اطلاق کا بھی نوٹس لینے کا عندیہ دے دیا۔منگل کو سپریم کورٹ میں موبائل فون کارڈ پر حد سے زیادہ ٹیکس کٹوتی پر از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ موبائل فون کے استعمال پر ودہولڈنگ ٹیکس کیسے لیا جارہا ہی ۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فون کارڈز اور ایزی لوڈ پر 12.7 فیصد ود ہولڈنگ ڈیوٹی اور 19.5 فیصد سیل ٹیکس کاٹا جاتا ہے، جبکہ 100 روپے کے کارڈ پر 10 فیصد سروس چارجز بھی وصول کیے جاتے ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سروس چارجز کیوں لیے جاتے ہیں ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کا جواب تو موبائل فون کمپنیاں ہی دے سکتی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی وضاحت کریں تو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت اور سفارتکاروں سے ود ہولڈنگ ٹیکس نہیں لیا جاتا۔۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ موبائل کارڈ پر سیلز ٹیکس کیوں لگا دیا گیا تو ایف بی آر کے افسر نے بتایا کہ سیلز ٹیکس صوبے وصول کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے کس قانون کے تحت سیلز ٹیکس لگا رہے ہیں، کیا یہ ڈبل ٹیکس لگانا استحصال نہیں ہے، جو شخص ٹیکس دینے کا اہل نہیں اس پر ودہولڈنگ ٹیکس کیوں لگایا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 100 روپے کے کارڈ پر 42 فیصد پیسے ٹیکس کی مد میں کاٹ لئے جاتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس وہی شخص دے گا جو ٹیکس دینے کا اہل ہوگا، 14 کروڑ عوام سے ود ہولڈنگ ٹیکس کیسے لیا جا رہا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ غیر قانونی طریقے سے عوام سے پیسے نکلوانا ہے، جب کہ سروس چارجز بھی ایک قسم کا ٹیکس ہے۔ سپریم کورٹ نے سیلز ٹیکس پر صوبوں اور سروس چارجز پر موبائل کمپنیوں سے جواب طلب کر لیا جب کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کے اطلاق پر ایف بی آر سے بھی جواب طلب کرلیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ڈیزل اور پٹرول پر ہوشربا ٹیکس کے اطلاق کا بھی نوٹس لینے کا عندیہ دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی تو میں پٹرول اور ڈیزل کی طرف بھی آئوں گا، پوچھا جائے گا پٹرول ڈیزل پر کتنا ٹیکس لگایا جاتا ہے۔۔موبائل کارڈ کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔