سپریم کورٹ سے بڑی خوشخبری، پیٹرول کی قیمتوں میں بھی کمی کر دیے جانے کا امکان پیدا ہوگیا

موبائل فون کارڈز پر دوہرا ٹیکس لگانا غیر قانونی ہے:سپریم کورٹ، عدالت نے سیلز ٹیکس پر صوبوں اور سروس چارجز پر موبائل کمپنیوں سے جواب طلب کر لیا، جو شخص ٹیکس دینے کا اہل نہیں اس پر ودہولڈنگ ٹیکس کیوں لگایا، کیا یہ ڈبل ٹیکس لگانا استحصال نہیں ہے: چیف جسٹس ثاقب نثار، ابھی تو میں پٹرول اور ڈیزل کی طرف بھی آئوں گا کہ پٹرول اور ڈیزل پر کتنا ٹیکس لیا جارہا ہے، ریمارکس

منگل مئی 15:50

سپریم کورٹ سے بڑی خوشخبری، پیٹرول کی قیمتوں میں بھی کمی کر دیے جانے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) سپریم کورٹ موبائلنفون کارڈ کٹوتی ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے سیلز ٹیکس پر صوبوں اور سروس چارجز پر موبائل کمپنیوں اور ٹیکس کے اطلاق پر ایف بی آر سے بھی جواب طلب کرلیاجبکہ دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے ہیں کہ موبائل فون کارڈز پر دہرا ٹیکس لگانا غیر قانونی ہے،جیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جو شخص ٹیکس دینے کا اہل نہیں اس پر ودہولڈنگ ٹیکس کیوں لگایا، کیا یہ ڈبل ٹیکس لگانا استحصال نہیں ہے۔

منگل کے روز سپریم کورٹ میں موبائل فون کارڈ پر حد سے زیادہ ٹیکس کٹوتی پر از خود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ موبائل فون کے استعمال پر ودہولڈنگ ٹیکس کیسے لیا جارہا ہی ۔

(جاری ہے)

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فون کارڈز اور ایزی لوڈ پر 12.7 فیصد ود ہولڈنگ ڈیوٹی اور 19.5 فیصد سیل ٹیکس کاٹا جاتا ہے، جبکہ 100 روپے کے کارڈ پر 10 فیصد سروس چارجز بھی وصول کیے جاتے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سروس چارجز کیوں لیے جاتے ہیں اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کا جواب تو موبائل فون کمپنیاں ہی دے سکتی ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی وضاحت کریں تو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت اور سفارتکاروں سے ود ہولڈنگ ٹیکس نہیں لیا جاتا، چیف جسٹس نے پوچھا کہ موبائل کارڈ پر سیلز ٹیکس کیوں لگا دیا گیا تو ایف بی آر کے افسر نے بتایا کہ سیلز ٹیکس صوبے وصول کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے کس قانون کے تحت سیلز ٹیکس لگا رہے ہیں، کیا یہ ڈبل ٹیکس لگانا استحصال نہیں ہے، جو شخص ٹیکس دینے کا اہل نہیں اس پر ودہولڈنگ ٹیکس کیوں لگایا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 100 روپے کے کارڈ پر 42 فیصد ٹیکس کی مد میں کاٹ لئے جاتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس وہی شخص دے گا جو ٹیکس دینے کا اہل ہوگا، 14 کروڑ عوام سے ود ہولڈنگ ٹیکس کیسے لیا جا رہا ہے جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ غیر قانونی طریقے سے عوام سے پیسے نکلوانا ہے، جب کہ سروس چارجز بھی ایک قسم کا ٹیکس ہے سپریم کورٹننے سیلز ٹیکس پر صوبوں اور سروس چارجز پر موبائل کمپنیوں سے جواب طلب کر لیا جب کہ ٹیکس کے اطلاق پر ایف بی آر سے بھی جواب طلب کرلیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ڈیزل اور پٹرول پر ہوشربا ٹیکس کے اطلاق کا بھی نوٹس لینے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تو میں پٹرول اور ڈیزل کی طرف بھی آئوں گا، پوچھا جائے گا پٹرول ڈیزل پر کتنا ٹیکس لگایا جاتا ہے، بعد ازاں عدالت نے موبائل کارڈ کٹوتی پر لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔