سیاست میں تشدد کے رجحان سے سیاسی جماعتوں کو نقصان ہو گا، پرامن الیکشن کرانے کیلئے ہر جماعت کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، آفتاب احمد خان شیرپائو

منگل مئی 16:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) سابق وزیراعلیٰ رکن قومی اسمبلی آفتاب احمد خان شیرپائو نے کہا ہے کہ سیاست میں تشدد کے رجحان سے سیاسی جماعتوں کو نقصان ہو گا، یہ جمہوریت اور ملک کیلئے کسی صورت ٹھیک نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ انتخابات کے دوران سیاسی ٹمپریچر میں گرمی آتی ہے مگر سیاسی جماعتوں کو برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اخلاقی روایات کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔

انہوں نے کراچی میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں تصادم کے واقعہ پر کہا کہ ایسے واقعات سے سیاست میں تلخی اور تشدد کے رجحان کو فروغ حاصل ہو گا جس سے سیاست کو نقصان ہو گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پرامن الیکشن کرانے کیلئے ہر جماعت کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، تنقید اور تقریر ہر شہری اور سیاسی کارکن کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست سے تلخی ختم ہونی چاہئے تاکہ بے یقینی کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات کا انعقاد غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، جو بات صبح ہوتی ہے شام کو یہ یکسر تبدیل ہو جاتی ہے جس سے بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو آج جنوبی پنجاب کا الگ صوبہ بنانے کا خیال آ گیا، پانچ سال تک ان کی طرف سے کسی پارلیمنٹ میں کوئی تحریک کیوں پیش نہ ہوئی، یہ انتخابی حربہ ہے، تحریک انصاف کی ساکھ عوام میں گری ہے جسے سنبھالا دینے کیلئے جنوبی پنجاب اور فاٹا کے عوام کیلئے انہوں نے الاپ راگنا شروع کر دیا ہے، اگر تحریک انصاف جنوبی پنجاب کا الگ صوبہ چاہتی تھی تو اپنے پائوں پر جدوجہد کرتی۔

جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے قائدین کی طرف سے تحریک انصاف کے ساتھ الحاق کے فیصلہ کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا کوئی نظریہ نہیں، یہ آئندہ الیکشن جیتنے کیلئے کسی نہ کسی جماعت میں خود کو شامل کرنا چاہتے ہیں، اس طرح کے لوگ اگر آج ایک جماعت میں اور کل دوسری میں جائیں گے تو اس سے جمہوریت اور ملک دونوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔