سند ھ ہائی کورٹ نے سندھ ترمیمی یونیورسٹیز بل 2018کے خلاف دائر درخواست غیر موثر قرار دیتے ہوئے نمٹادی

منگل مئی 16:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) سندھ ہائی کورٹ نے سندھ ترمیمی یونیورسٹیز بل 2018کے خلاف دائر درخواست پر قرار دیا ہے کہ یہ بل اب ایکٹ بن چکا ہے اس لیے درخواست غیر موثر ہوگئی ہے ۔منگل کو سندھ ترمیمی یونیورسٹی بل 2018کے خلاف صدر پاسبان الطاف شکور کی درخواست کی سمات ہوئی ۔درخواست میں وزیر اعلی سندھ،،،گورنر سندھ ،اسپیکر سندھ اسمبلی اور چیف سیکریٹری کو فریق درخواست میں بنایا گیا ہے۔

(جاری ہے)

درخواست گذار کے وکیل عرفان عزیز نے موقف اختیار کیا کہ بدنیتی کی بنیاد پر صوبے کی چوبیس جامعات کو وزیر اعلی کے تابع کردیا گیا ہے ۔صوبے کے شہری علاقوں پر تعلیم کے دروازے بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔جامعات کی خودمختاری چھین لی گئی سنڈیکیٹ کی دس میں سے آٹھ نشستوں پر بیورو کریٹ تعینات ہونگے ۔مذکورہ بل کے نفاذ سے تعلیمی ماحول تباہ ہوجائیگاجامعات سیاسی گڑھ بن جائینگی۔مجوزہ بل غیر قانونی ہے اسے کالعدم قرار دیا جائے ۔درخواست گذار کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے رقرا ر دیا کہ بل اب ایکٹ بن چکا ہے اس لیے یہ درخواست غیر موثر ہوگئی ہے ۔درخواست گذار اگر اس معاملے کو مزید چلانا چاہتا ہے تو نئی درخواست دائر کرے ۔