قدرتی آفات اور حادثات سے نمٹنے کیلئے ’’ریڈ کریسنٹ کور‘‘ کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا مضمون تعلیمی نصاب میں شامل کرکے اس کی افادیت کو اجاگر کیا جائے، فضائی ایمبولینس کی سہولت بھی ہر شہری کی دسترس میں ہونی چاہئے

صدر مملکت ممنون حسین کا انجمن ہلالِ احمر پاکستان کے پہلے کنونشن سے خطاب

منگل مئی 16:50

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ قدرتی آفات اور حادثات سے نمٹنے کیلئے ’’ریڈ کریسنٹ کور‘‘ کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا مضمون تعلیمی نصاب میں شامل کرکے اس کی افادیت کو اجاگر کیا جائے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو انجمن ہلالِ احمر پاکستان کے پہلے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

تقریب سے گورنر پنجاب رفیق رجوانہ،، گورنر خبیرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا، گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی کے علاوہ چیئرمین انجمن ہلال احمر ڈاکٹر سعید الہٰی نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں میئر اسلام آباد انصر عزیز، انجمن ہلال احمر پاکستان کی صوبائی و ضلعی شاخوں کے سربراہان بھی موجود تھے۔ صدر مملکت نے کہا کچھ عرصہ قبل تک ہلالِ احمر جیسی تنظیمیں قدرتی و غیر قدرتی آفات اور ان سے متعلقہ مسائل سے نمٹا کرتی تھیں لیکن ان تمام مسائل کے ساتھ ساتھ موجودہ دور میں موسمیاتی تغیرات کو بھی بے پناہ اہمیت حاصل ہو گئی ہے کیونکہ اب بیشتر مسائل ان تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ انجمن ہلا ل احمر اور اس جیسی دیگر تنظیمیں بھی اپنے اندر ایسے مسائل سے عہدہ برآ ہونے کی اہلیت پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں انجمن ہلال احمر کے دائرہ کار میں جتنی وسعت اور نوجوانوں کی جتنی بڑی تعداد اس سے وابستہ ہو چکی ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ ادارہ ان تمام چیلنجز سے بخوبی نمٹ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر سعید الٰہی نے ’’ریڈ کریسنٹ کور‘‘ کے نام سے جس منصوبے کی تجویز پیش کی ہے ، وفاق اور تمام صوبائی حکومتیں اس جانب سنجیدگی سے پیشرفت کریں۔

صدر مملکت نے اس امیدکا اظہار کیا کہ انجمن ہلال احمر کی ذیلی شاخیں پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش کے ساتھ انسانیت کی خدمت کا فریضہ ادا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مواقع درپیش مسائل پر ازسرنو غور کرنے، بدلے ہوئے حقائق کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی کی تیار ی کے سلسلہ میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے امیدکا اظہار کیا کہ صوبائی گورنران کی سرپرستی سے صوبائی اور مقامی سطح پر بھی انجمن ہلال احمرکی سرگرمیوں میں ایک نیا جوش و خروش پیدا ہو گا اور یہ تنظیم زیادہ منظم ہو کر اپنے فرائض منصبی ادا کر سکے گی۔

صدر مملکت نے کہا کہ انجمنِ ہلالِ احمر کی بڑے شہروں میں تربیت یافتہ عملے پر مشتمل ایمبولنس سروس کا آغاز ایک غیر معمولی اقدام ہے، اب اس سلسلہ کو وطن عزیز کے دیگر حصوں خاص طور پر دور دراز مقامات تک توسیع دینے پر غور کرنا چاہئے کیونکہ بڑے شہروں کی نسبت چھوٹے مقامات پر اس کی ضرورت کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ انجمنِ ہلالِ احمر اپنی یہ ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائے گا۔

انہوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ وطنِ عزیز میں فضائی ایمبولینس کی سہولت بھی ہر شہری کی دسترس میں ہونی چاہئے تاکہ قدرتی آفات اور انفرادی حادثات سمیت ہرطرح کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں آسانی پیدا ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دور دراز علاقوں کے متاثرین کی سہولت کیلئے فضائی ایمبولینس سروس کے قیام پر توجہ دی جائے۔