تعلیم،صحت عامہ اور غربت کا خاتمہ پاکستان کے اہم مسائل ہیں جنکو بجٹ تجاویز میں نظر انداز کیا گیا ہے،ڈاکٹربلال احمد

منگل مئی 16:50

راچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) پاکستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر بجٹ سازی کے موقع پر عوامی خواہشات اور امنگوں کے برعکس سیاستداں اپنے سیاسی مفادات کا زیادہ خیال رکھتے ہیں جس کی بنا پر تعلیم، صحت عامہ،سماجی انصاف اور غربت کے خاتمہ کے شعبوں کے لئے بہت کم رقوم مختص کی جاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب ہم آئیند مالی سال کے لئے پیش کئے جانے والے وفاقی بجٹ کا جائیزہ لیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ بجٹ تجاویزملک میں اس سال منعقد ہونے والے عام انتخابات کے پیش نظر اپنے انتخابی مفادات کی تکمیل کوسامنے رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی(ماجو) میں گزشتہ شام وفاقی بجٹ کے اعلان کے بعد کی صورتحال کے موضوع پر ہونے والے ایک سیمینار سے تعلیمی ماہرین کے علاوہ ٹریڈ اینڈ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

سیمینار سے وفاقی ایوانہائے تجارت و صنعت پاکستان کے ڈائیریکٹر تحقیق و ترقی ڈاکٹر بلال احمد،ایم ایم سیکوریٹیز کے سی ای او ندیم مولوی، ماجو کی بزنس ایڈمنسٹریشن و سوشل سائینسز فیکلٹی کے ایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹر شجاعت مبارک، شعبہ معاشیات کے سربراہ ڈاکٹر رضوان الحسن اور ممتازٹی وی اینکر اور ماجو کے فیکلٹی ممبر علی ناصر نے اظہار خیال کیا۔

ڈاکٹر بلال احمد نے کہا کہ کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی معیشت کا حجم 411 بلین ڈالرز ہونا ضروری ہوتا ہے لیکن پاکستان کی معیشت گزشتہ سال تک 304بلین ڈالرز تک پہنچی تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ اس سال کے کنامک سروے آف پاکستان کے 14 چیپٹرز میں سے غربت کے خاتمہ کا چیپٹر ہی نکال دیا گیا ہے جبکہ سی پیک کا چیپٹر شامل کیا گیا ہے جس میں صرف انرجی سیکٹر کا ذکر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک میں اپنے جائیز حقوق کے حصول کے لئے جدو جہد کرنا ہوگی اور ہماری نئی نسل اس سلسلے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ساڑے سات کڑوڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں اور ملک کا تین فیصد حکمراں طبقہ بیس کڑور عوام پر حکومت کررہا ہے۔انہوں نے کہا کراچی میں روزآنہ دس لاکھ ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے صوبائی حکومت کے پاس اسے ٹکھانے لگانے کے لئے فنڈز نہیں ہیں ،اس کے لئے پی ایس ڈی پی سے دو بلین روپے فراہم کرنا ہونگے،انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبہ کے لئے کم رقم مختص کرنے کی بنا پر ڈھائی کڑور بچے اسکول نہیں جاتے،صحت عامہ کے شعبہ کو 17 ارب روپے بجٹ میں ملتے ہیں جس کی بنا پر ایک آدمی کے علاج کے لئے 48 روپے آتے ہیں، ملک میں 25 لاکھ اسٹریٹ چلڈرن کام کرنے پر مجبور ہیں مگر انکی جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔

ندیم مولوی نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں سیاسی بجٹ بنانے کی بنا پر عوام کو کوئی فائیدہ نہیں پہنچ رہا ہے،ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کے بجائے جو لوگ پہلے سے ہی ٹیکس ادا کررہے ہیں ان پر ہی ٹیکس کی شرح میں اضافہ کردیا جاتا ہے، افراط ذر کی شرح کنٹرول میں نہیں ہے ا ور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے ہم کوئی فائیدہ نہیں اٹھاسکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہوجانے کی چھٹری ہمارے پاس کہاں سے آئے گی،بجٹ میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ آمدنی کہاں سے حاصل ہوگی،مہنگائی پر کسطرح قابو پایا جائے گا،بر آمدات میں اضافہ کی پالسی کون بنائے گا اوربجلی کی قیمتوں میں اضافہ سے نئی صنعتوں کا قیام کیسے ممکن ہوگا۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ پر نظر ڈالیں تو ایک سو ایکڑ تک زمین رکھنے والا زمیندار غریب ہے جبکہ ہزاروں ایکڑ زمین رکھنے والے مالدار ہیں۔

ڈاکٹر شجاعت مبارک نے اپنی تقریر میں کہا کہ نئے مالی سال کا بجٹ ووٹ حاصل کرنے کے مقصد کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے ،ملک کی ترقی و خوشحالی کا خیال نہیں رکھا گیا ہے اور ہم اس بجٹ کو ایک زہریلی میٹھی گولی کہہ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس بجٹ سے یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ اتنی زیادہ آمدنی کہاں سے حاصل ہوگی، ملک کے اہم مسائل تعلیم،صحت اور غربت کا خاتمہ ہیں مگر ہمارے ہاں عام آدمی کے مفادات کو نظر انداز کردیا جاتا ہے اور چند مخصوص طبقات کا خیال رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ آئیندہ مالی سال کا جو بجٹ پیش کیا گیا ہے اس پر آگے چل کر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔ڈاکٹر رضوان الحسن نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں سوشل سیکٹر کے لئے سب سے کم رقم مختص کی جاتی ہے جس میں تعلیم اور صحت عامہ کے شعبے آتے ہیں ،ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کے شعبہ میں پانچ فیصد رقم مختص کی جائے جو اس وقت دو فیصد ہے۔

۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں تعلیم اور صحت عامہ کے شعبوں میں پبلک سیکٹر کے مقابلہ میں پرائیویٹ شعبہ کی کارکردی بہت بہتر ہے لیکن ایک آدمی اپنے بچہ کی تعلیم اور علاج و معالجہ کے لئے پرائیویٹ اسکول اور اسپتال کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے وفاقی بجٹ کا ایک بڑا حصہ دفاع اور قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے جبکہ ایک ہزار بلین روپے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے ملتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ رقم مزید کم ہوجائے گی۔

علی ناصر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا بجٹ سازی کے موقع پر زرعی شعبہ کو بری طرح نظرانداز کیا جاتا ہے،کسان پیکیج محض دکھاوے کی حد تک ہے اسے اس سے کوئی فائیدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔انہوں نے کہا چھوٹے زمیندار کو گندم اور گنیّ کی کاشت کرنے کے باوجود کوئی مالی فائیدہ نہیں پہنچتا ہے اور بعض اوقات تو وہ اپنی فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے پر تنگ آکر اپنی فصل کو آگ تک لگا دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

انہوں نے امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ زرعی شعبہ پر توجہ دینے کے بجائے سروس سیکٹر پر زیادہ رقوم خرچ کی جارہی ہیں، ملک کی معیشت کی صورتحال بہت خراب ہے جس کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر ہماری معیشت ترقی کرے گی تو ملک ترقی کرے گا ۔انہوں نے کہا کہ اگر ہماری حکومتوں نے ملک کی معاشی صورتحال بہتر بنانے پر توجہ نہ دی تو بہت جلد ہماری معیشت افریقی ممالک کی معیشت کی سطح پر آجائے گی۔