انڈونیشیا میں افغان امن سے متعلق پاکستان افغانستان اور انڈونیشیا کے علماء کی کانفرنس کے مسئلے پر پاکستانی علماء تقسیم

کانفرنس کیلئے بلائے گئے کئے کئی علماء کا شرکت نہ کر نے کا فیصلہ ،ْ کانفرنس گیارہ مئی کو ہوگی ،ْ طالبان کی کانفرنس میں شرکت نہ کر نے کی درخواست

منگل مئی 17:22

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) انڈونیشیا میں افغان امن سے متعلق پاکستان افغانستان اور انڈونیشیا کے علماء کی کانفرنس کے مسئلے پر پاکستانی علماء تقسیم ہوگئے ہیں اور کانفرنس کیلئے بلائے گئے کئی علماء نے شرکت نہ کر نے کا فیصلہ کیا ہے ۔انڈونیشیا نے گیارہ مئی کو تینوں ممالک کی کانفرنس بلائی ہے جس میں افغانستان میں امن کے قیام میں علماء کے کر دار پر گفتگو کی جائیگی ۔

یہ کانفرنس پہلے مارچ میں ہونے تھی لیکن طالبان کی مخالفت کی وجہ سے ملتوی کر دی گئی تھی ۔۔طالبان نے ایک بیان میں علماء سے کانفرنس کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی ۔این این آئی کو معلوم ہوا ہے کہ طالبان نے پاکستانی علماء سے کانفرنس میں نہ جانے کی ایک مرتبہ پر درخواست کی ہے اور اس سلسلے میں ان سے ہمدردی رکھنے و الے افراد کو بھی درخواست کی ہے کہ ان علماء کو کانفرنس میں جانے سے روکا جائے ۔

(جاری ہے)

طالبان نے اجلاس میں ممکنہ شرکت کر نے والوں کی جو فہرست جاری کی ہے ان میں مولانا تقی عثمانی ،ْ مفتی منیب الرحمن ،ْ مولانا طاہر اشرفی ،ْ مولانا زاہد قاسمی ،ْ مفتی عبد الرحیم ،ْ مولانا عبد المالک ،ْ قاری حنیف جالندھری ،ْ ڈاکٹر قبلہ ایاز ،ْ مفتی نعیم ،ْ مولانا رفیع عثمانی ،ْ مولانا فضل الرحمن خلیل ،ْ پروفیسر ساجد میر ،ْ مولانا یاسین ظفر ،ْ ڈاکٹر ضیاء الحق ،ْ ڈاکٹر منیر ،ْ ڈاکٹر سعید ،ْ شیخ محمد ادریس ،ْ مفتی عزیز الرحمن ہزاروی ،ْ مفتی غلام الرحمن اور ڈاکٹر عطاء الرحمن شامل ہیں ۔

رابطہ کر نے پر پاکستان علماء کونسل کے سربراہ علامہ طاہر اشرفی نے کہاکہ انہیں کانفرنس میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے لیکن وہ دیگر مصروفیات کی وجہ سے اس میں شرکت نہیں کرینگے ۔ ’’این این آئی ‘‘کو معلوم ہوا ہے کہ مولانا قاری حنیف جالندھری ،ْ علامہ ڈاکٹرافضال سکندر ،ْ مفتی تقی عثمانی ،ْ علامہ رفیع عثمانی شرکت نہیں کرینگے جبکہ مولانا زاہد قاسمی ،ْ مفتی منیب الرحمن ،ْعلامہ پروفیسر ساجد میر ،ْ فضل الرحمن خلیل ،ْعلامہ یاسین ظفر اور ڈاکٹر علامہ عطاء الرحمن کانفرنس میں شرکت کرینگے ۔

یاد رہے کہ جن پاکستانی علماء کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے انہوںنے جنوری میں دہشتگردی اور خود کش حملوں کے خلاف جاری کئے گئے فتوے پر دستخط کئے تھے ۔پیغام پاکستان کے نام سے جاری کئے گئے فتویٰ پر تقریباً دو ہزار علماء نے دستخط کئے تھے جس پر افغان صدر اشرف غنی نے اس دلیل پر تنقید کی تھی کہ اس کو صرف پاکستان تک محدود کر دیا گیا ہے ۔