ایون فیلڈ ،ْملزمان کا بیان لینے کی نیب کی استدعا مسترد، واجد ضیاء 10 مئی کو طلب

تینوں ریفرنسز میں ایک ساتھ صفائی کا بیان ریکارڈ کیا جائے، الگ الگ صفائی کا بیان لینا عدالت عالیہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے ،ْخواجہ حارث

منگل مئی 17:22

ایون فیلڈ ،ْملزمان کا بیان لینے کی نیب کی استدعا مسترد، واجد ضیاء 10 ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) احتساب عدالت نے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں نامزد ملزمان سابق وزیراعظم نواز شریف،، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے بیانات لینے کی نیب کی درخواست مسترد کرتے ہوئے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو 10 مئی کو طلب کرلیا۔منگل کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر عباسی نے ایون فیلڈ ریفرنس میں ملزمان کا بیان قلمبند کرنے کی استدعا کی تاہم وکیل صفائی کی طرف سے نیب کی استدعا کی مخالفت کی گئی۔وکیل صفائی خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ پہلے دیگر 2 یفرنسز (العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس) میں واجد ضیاء کا بیان قلمبند کیا جائے۔

(جاری ہے)

خواجہ حارث نے احتساب عدالت کے 8 نومبر 2017 کے حکم نامے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تینوں ریفرنسز میں ایک ساتھ صفائی کا بیان ریکارڈ کیا جائے، الگ الگ صفائی کا بیان لینا عدالت عالیہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے جس پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف اور دیگر ملزمان کے خلاف تینوں ریفرنسز پر فیصلہ ایک ساتھ سنایا جائیگا۔

اس موقع پر خواجہ حارث نے کہا کہ میرے خیال میں سپریم کورٹ کو مزید 3 ماہ کا وقت دینا چاہیے۔جس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ یہ تو سپریم کورٹ کی مرضی ہے کہ کتنا وقت دیتی ہے۔۔مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ پراسیکیوشن نے 18 گواہوں پر 8 ماہ لگا دیئے، شفاف ٹرائل کا تقاضا یہی ہے کہ ہمیں بھی اتنا ہی وقت ملے جتنا پراسیکیوشن کو ملا۔

سماعت کے بعد عدالت نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت 10 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں واجد ضیاء کو طلب کرلیا۔واضح رہے کہ گذشتہ روز استغاثہ کے آخری گواہ، نیب تفتیشی افسر عمران ڈوگر پر مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل امجد پرویز نے جرح مکمل کی تھی جبکہ اس سے قبل 4 مئی کو عمران ڈوگر پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح مکمل کی تھی۔

سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز،، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا۔

العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔۔نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اب تک احتساب عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت نے انہیں مفرور قرار دے کر ان کا کیس الگ کردیا تھا۔نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں ان تینوں ریفرنسز کے ضمنی ریفرنسز بھی دائر کیے جاچکے ہیں۔