بہتر اسلوب حکمرانی اور کریمینل جسٹس سسٹم میں سنجیدہ تبدیلیوں سے نیشنل ایکشن پلان کو زیادہ موثر بنایا جا سکتا ہے،

نیشنل ایکشن پلان دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف اہم دستاویز ہے، اپیکس کمیٹیوں کوزیادہ فعال اورموثربنایا جائے سابق جنرل آفیسرکمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالدربانی اور دیگرکا قومی ایکشن پلان کی مناسبت سے منعقدہ مذاکرے سے خطاب

منگل مئی 17:24

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) سابق جنرل آفیسرکمانڈنگ لیفٹننٹ جنرل (ر) خالدربانی نے کہاہے کہ بہتراسلوب حکمرانی اور ملک کے کریمینل جسٹس سسٹم میں سنجیدہ تبدیلیوں سے نیشل ایکشن پلان کوزیادہ موثر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بات انہوں نے اسلام آبادپالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام قومی ایکشن پلان کی مناسبت سے منعقدہ مذاکرے میں کہی۔

انہوں نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان قومی سلامتی کے حوالے سے ایک اہم قومی دستاویز ہے اوراس کے تحت فعال اورموثرکوششیں ہوئی ہیں تاہم اونرشب کی کمی کے باعث اس کے مکمل اورموثرنفاذ میں بعض مشکلات درپیش ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان اورصوبائی اسمبلیوں کونیشنل ایکشن پلان پرپیش رفت کاجائزہ لینے کیلئے باقاعدہ بنیادوں پرمباحثوں کا اہتمام کرنا چاہئیے۔

(جاری ہے)

مذاکرے سے خطاب کرتے پوئے پلڈاٹ کی جائنٹ ڈایریکٹر عائشہ ریاض نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان دہشت گردی اورپرتشددانتہاپنسدی کے خلاف اہم دستاویز ہے جس پرموثرعمل درآمد کو یقینی بنانا چاہئیے۔انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپیکس کمیٹیوں کوزیادہ فعال اورموثربنایا جائے۔مذاکرے میں سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے بھی حصہ لیا اورقومی ایکشن پلان کوزیادہ موثراورفعال بنانے کے حوالے سے تجاویزدیں۔

اسلام آبادپالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے صدرعبدالباسط نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں ملک میں دہشت گردی کے حملوں میں واضح اورنمایاں کمی آئی ہے تاہم سماجی موبلائزیشن، دہشت گرد تنظیموںکی نئے ناموں سے ری گروپنگ اوردہشت گردوں کی مالی معاونت بدستوراہم چیلنجوں میں شامل ہیں۔

متعلقہ عنوان :