تحریک لبیک کے کارکنان پر پولیس تشدد‘تنظیمی عہدیدار،انجمن تاجراں اور شہری کوٹلی پولیس کے ذمہ داران کیخلاف کارروائی کا مطالبہ لیکر پریس کلب پہنچ گئے

منگل مئی 18:06

کوٹلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) تحریک لبیک کے کارکنوں پر پولیس کا تشدد،تنظیمی عہدیدار،انجمن تاجراں اور شہری کوٹلی پولیس کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ لیکر پریس کلب پہنچ گئے۔مظاہرین نے حکومت اور انتظامیہ کے لیے سوال چھوڑ دیا کہ ’’شہر میں گانیں بجانے کی اجازت ہے مگر نعتوں پر پابندی ہے ،کیوں‘‘ ، ’’لبیک یا رسول اللہ‘‘کے نعرے لگانے والے کارکنوں کے ہونٹوں پر ایس ایچ او طاہر ایوب کی طرف سے جوتیاں مارنا قابل مذمت اورقابل مواخذہ فعل ہے، پولیس گردی میں ملوث پولیس اہلکاران کے خلاف ایک ہفتے کے اندر اندر کارروائی عمل میں لائی گئی تو تحریک لبیک کے کارکنان سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

تحریک لبیک کوٹلی کے ضلعی امیر حافظ منصور سلطانی کی سربراہی میں انجمن تاجراں کوٹلی کے صدر ملک یعقوب اور تنظیم کے کارکنان کوٹلی میں کی جانے والی پولیس گردی کے خلاف احتجاج کرتے پریس کلب پہنچ گئے۔

(جاری ہے)

حافظ منصور سلطانی کا کہنا تھا کہ اتوار کے روز ہمارے کارکنان شہید چوک کوٹلی میں تنظیم کی رُکنیت سازی کے سلسلہ میںکیمپ لگائے بیٹھے تھے جہاں پر ایس ایچ او تھانہ کوٹلی طاہر ایوب کی قیادت میں اشتیاق،بوستان،سفیان،شہناز اور قاضی شہزاد نامی پولیس اہلکاران نے ہمارے کارکنان پر ہلہ بول دیا۔

پولیس اہلکاران نے شہید چوک میں دن دیہاڑے ہمارے کارکنوں پر بدترین تشدد کیا ، کرسیاں ،میز اور سپیکر توڑ دیے اور ہمارے کارکنان کواُٹھا کر تھانے لے گئے۔ حافظ منصور کا کہنا تھا کہ تھانے میں ایس ایچ او نے ہمارے کارکنان کو رہا کرنے کے لیے تنظیم کے ذمہ داران کی موجودگی میں ایک تحریر لکھوائی اور گرفتار کارکنوں کو چھوڑ دیا۔ ہماری تنظیم کے ذمہ داران جب گرفتار کارکنوں کو لیکر تھانے سے باہر آئے تو اُن کارکنوں نے ساری تفصیلات سے اُنھیں اگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے خون آلود کپڑے پولیس نے اُتار لیے ہیں اور ہمیں جو کپڑے پہنائے گے ہیں وہ ہمارے نہیں ہیں،ہمیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

’’لبیک یارسول اللہؐ ‘‘کے نعرے لگانے پر ایس ایچ اوطاہر ایوب نے ہمارے ہونٹوں پر جوتیاں ماری ہیں۔حافظ منصور کا کہنا تھا کہ ہم نے کارکنوں کی کہانی بیان کرنے کے بعد جب شہید چوک میں تشدد کی بنائی ویڈیو دیکھی تو پریشان ہوگئے کہ پولیس جو کچھ کہہ رہی تھی سب جھوٹ تھا، پولیس نے طاہر ایوب کی مدعیت میں ہمارے کارکنوں کو جانوروں کی طرح مارا پیٹا، نبی پاکؐ کے نعرے لگانے پر اُنھیں منہ پر جوتیاں ماری گئیں،ہم نے اس تمام صورتحال کے بعد پولیس کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے ایس ایس پی کو درخواست دے دی ہے اگر ایک ہفتہ تک واقعہ میں ملوث ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو ہم احتجاج شروع کرینگے جس کا دائرہ کار آزادکشمیر میں پھیل جائے گا اور جب تک پولیس گردی میں ملوث ملزمان اپنے انجام کو نہ پہنچ جائیں ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں حافظ منصور کا کہنا تھا کہ ہم مانتے ہیں ہمارے کارکنوں نے سپیکر کے استعمال کے لیے انتظامیہ سے اجازت نہیں لی تھی مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ پولیس ہمارے کارکنوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتی ،،پولیس کو قانون کے مطابق سپیکر ضبط کرلینا چاہیے تھا یا کارکنوں کو گرفتار کر لے جانا چاہیے تھا مگر پولیس نے جو راہ اختیار کی وہ قابل مذمت اور قابل مواخذہ ہے۔