ہورزن،2020 سے یورپین یونین اور ترقی پذیر ممالک کے مابین سائنس اور تحقیق کے شعبوں میں رابطوں کو مزید فروغ ملے گا، این مارشل

منگل مئی 18:18

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) پاکستان میں یورپین یونین کی ڈپٹی ہیڈ آف مشن این مارشل نے کہا ہے کہ ہورزن۔2020 (ایچ 2020) سے یورپین یونین اور ترقی پذیر ممالک کے مابین سائنس اور تحقیق کے شعبوں میں رابطوں کو مزید فروغ ملے گا۔ ایچ 2020 دنیا بھر کے سائنسدانوں اور محقیقین کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ایچ 2020 یورپین یونین کا ریسرچ اور انوویشن کا سب سے بڑا پروگرام ہے جس کے تحت 2014ء سے 2020ء تک اس مقصد کیلئے 80 ارب یورو کے فنڈز دستیاب ہوں گے۔

اس سلسلہ میں کامسیٹس نے یورپین یونین کے اشتراک سے منگل کو ایچ 2020ء کی آگاہی سے متعلق ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ سیمینار کا مقصد اکیڈیمیا اور ریسرچ تنظیموں کو ایچ 2020 کے تحت فنڈنگ کیلئے رجوع کرنے کے مختلف پہلووں سے آگاہ کرنا تھا۔

(جاری ہے)

سمینار میں متعدد وائس چانسلرز اور محقیقین نے شرکت کی۔ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کنسلٹنٹ جارج پانگوپلز نے ایچ 2020 سے متعلق ایکسیلینٹ سائنس، انڈسٹریل لیڈر شپ اور سوسائٹل چیلنجز کے حوالے سے تربیت فراہم کی۔

سمینا ر کا افتتاح کرتے ہوئے چیئرمین کامسیٹس ڈاکٹر جنید زیدی نے کامسیٹس اور یورپین یونین سمیت دیگر تنظیموں کیساتھ قریبی ورکنگ تعلقات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بہترین تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پزیر ممالک کو ایچ 2020 پروگرام سے بھر فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کیلئے کامسیٹس ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔