عام انتخابات 2018ء کی تیاریوں کے سلسلے میں چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس

پولنگ سٹیشنز پر سہولیات مہیا کرنے کے حوالے سے ہونیوالی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا ہر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسراور ریٹرننگ افسر کے پاس مناسب سیکورٹی کی موجودگی یقینی بنائی جائے، سٹیشنز معذور افراد کیلئے ریمپ لگائے جائیں، ہدایت

منگل مئی 18:36

عام انتخابات 2018ء کی تیاریوں کے سلسلے میں چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) عام انتخابات 2018ء کی تیاریوں کے سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ایک اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پولنگ سٹیشنز پر سہولیات مہیا کرنے کے حوالے سے ہونیوالی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان سیکرٹریٹ اسلام آباد میں منگل کو چیف الیکشن کمشنرجسٹس سردار محمد رضا کی زیر صدارت عام انتخابات 2018ء کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلا س میں ممبران الیکشن کمیشن ، سیکرٹری الیکشن کمیشن ، صوبائی چیف سیکرٹری پنجاب،، سندھ،، خیر پختو نخوا ،سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بلوچستان ، سیکرٹری لاء اینڈ آڈر فاٹا،، چیف کمشنر اسلام آباد ، صوبائی الیکشن کمشنر ز کے علاوہ الیکشن کمیشن کے اعلی افسران نے بھی شرکت کی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں پولنگ سٹیشنز پر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی جہاں جہاں نشان دہی کی گئی تھی۔

ان سب کا پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں ایسے پولنگ سٹیشنز کی نشان دہی کی تھی جہاں بجلی،، واش رومز، پینے کا صاف پانی ، معذور افراد کیلئے ریمپ ، چاردیواری میں گیٹ کی عدم دسیتابی کے مسائل تھے۔۔پنجاب میں ایسے 470 پولنگ سٹیشنز کی نشان دہی کی گئی تھی جہاں بجلی ، پانی ،واش رومز اور ریمپ دستیاب نہیں تھے۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ 470 میں سے 363 میں سہولیات فراہم کی گئی جبکہ 107 پر جلد کام شروع کر دیا جائیگا۔

اسی طرح خیبر پختونخوا میں 1226 پولنگ سٹیشنز کی نشان دہی کی گئی تھی جہاں سہولیات مکمل نہیں تھی۔ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے بتایا کہ 532 پولنگ سٹیشنز میں سہولیات مہیا کر دی گئی ہے جبکہ 694 پولنگ سٹیشنز پر کام جاری ہے جو جلد ہی مکمل کر لیا جائے گا۔ صوبہ سندھ میں 3824 پولنگ سٹیشنز اسے تھے جن میں بنیادی سہولیات کا فقدان تھا۔چیف سیکرٹری سندھ نے کمیشن کو بتایا کہ 136 پر کام جاری ہے اور 3688 پر سارے بنیادی سہولیات فراہم کردی جائینگی۔

صوبہ بلوچستان میں کل 576 ایسے پولنگ سٹیشنز ہے جہاں پانی،، بجلی ، واش رومز ، ریمپ جیسی سہولیات دستیاب نہیں۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بلوچستان کو ہدایت کی گئی کہ دوبارہ سے تیاری کر کے کمیشن کو آگاہ کیا جائے کہ سہولیات فراہمی کے حوالے سے کیا اقدا مات کئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یا تو سہولیات مہیا کر دی گئی ہیں یا ان پر کام جاری ہے۔اور بروقت ساری سہولیات مہیا کرد ی جائیں گی۔

چیف الیکشن کمشنر نے معذور افراد کے لئے ریمپ لگانے کی تاکید کی تاکہ ان کو پولنگ سٹیشنز جانے میں کوئی دقت نہ ہو۔ انتہائی حساس پولنگ سٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹریز نے کمیشن کو یقین دہانی کرائی کہ عام انتخابات 2018ء کے دوران چار روز کے لئے ایسے تمام پولنگ سٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں گے۔

انتخابات کے لئے پولنگ سٹاف کی فراہمی پر بھی تفصیلی بحث ہوئی اور الیکشن کمیشن نے ہدایت کی کہ ملک بھر میں پولنگ سٹاف کی کمی کا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ تمام صوبائی حکومتوں نے الیکشن کمیشن کو یقینی دیا نی کرائی کہ جہاں کمی بیشی ہو رہی ہے اسے فوری طور پر پورا کیا جائیگا۔ الیکشن کمیشن نے ہدایت کی کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ ہر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسراور ریٹرننگ افسر کے پاس مناسب سیکورٹی موجود ہو۔

الیکشن کمیشن نے ٹریننگ وینوز کی سیکورٹی کو فول پروف بنانے کی ہدایت بھی کردی۔ ٹریننگ وینوز پر ریٹرننگ افسران اور پولنگ سٹاف کو انتخابی تربیت دی جائیگی۔ اجلاس کے اختتام پر الیکشن کمیشن نے جائزہ رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ پہلی بار الیکشن کمیشن نے ملک بھر کے پولنگ سٹیشنز کا سروے کیا اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا نوٹس لیتے ہوئے انتخابات سے پہلے ان سہولیات کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔