نریندر مودی کی انتہا پسند پالیسیاں خطے کو ایٹمی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہیں عالمی برادری کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کو یقینی بنائے ،کل جماعتی مشاورتی کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ .

حکومت پاکستان کشمیر کی آزادی کے لیے واضح روڈ میپ دے،سراج الحق آزاد حکومت کو با اختیار باوقار بنایا جائے تاکہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے،راجہ فاروق حیدر خان پاکستان کی طرف بہنے والے دریائوں میں کشمیریوں کا خون شامل ہے،ڈاکٹر خالد محمود خان کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل کے پلیٹ فارم سے پاکستان اور عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے رہیں گے،عبدالرشید ترابی کانفرنس سے پیپلز پارٹی کے نائب صدر مطلوب انقلابی،مسلم کانفرنس کے چیف آرگنائزر صغیر چغتائی،جمعیت علماء اسلام جموں کشمیر کے امیر مولانا امتیاز صدیقی،جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا امتیاز عباسی،حریت کانفرنس کے کنونیئر غلام محمد صفی،فیض نقشبندی،رفیق ڈار،مولانا عبدالسمیع ،نورالباری سمیت دیگر قائدین کا خطاب

منگل مئی 18:55

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق کی میزبانی میں کل جماعتی کشمیرمشاورتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان سمیت آزادکشمیر ،،مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے قائدین نے شرکت کی ،کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ کشمیرکی آزادی کے لیے خون کے آخرے قطرے اور زندگی کے آخری سانس تک لڑیں گے کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں ،،پاکستان کے قومی قائدین ذرا سوچیں کہ اگر پنجاب کی طرف بہنے والے دریا بند کر دئیے جائیں تو پنجاب میں کروڑوں لوگ ہجرت پر مجبور ہو جائیں گے اور یہ بنجر صحرا میں تبدیل ہو جائے گا اس لیے اہل پاکستان جاگیں اور مقبوضہ کشمیر کے اندر ہونے والی جدوجہد کی مدد اور حمایت کریں ،انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان کشمیریوں کی غیر فوجی امداد کرے ،ایک مستقل نائب وزیر خارجہ کا تقررکرے جس کا کام صرف مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا ہو انہوں نے کہاکہ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو بجٹ میں حصہ دیا جائے ،گلگت بلتستان ہو گا تو سی پیک ہو گا مقبوضہ کشمیر آزاد ہو گا تو پاکستان کی سلامتی محفوظ ہو گی انہوں نے کہاکہ ہم نے کشمیریوں سے مشاورت کی ہے اسلا م آباد ،مظفرآباد،،برطانیہ برسلز اور نیویارک میں بین الاقوامی کشمیرکانفرنسز کا انعقاد کریں گے ،انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے اندر قابض بھارتی افواج ظلم کی انتہا کررہی ہے اور ہمارا میڈیا ان مظالم کو بے نقاب کرنے میں کوہتائی کررہا ہے میں میڈیا کو کہتا ہوں کہ وہ مسئلہ کشمیرکو اجاگر کرے یہ ہماری سلامتی کامسئلہ ہے انہوں نے کہاکہ کشمیر کی آزادی پاکستان کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ،کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہاکہ آزادکشمیر کو با اختیار اور با وقار بنایا جائے تا کہ ہم مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرسکیں کشمیری اپنے حصے کی قربانیاں پیش کررہے ہیں اب پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کو منزل تک پہنچائے انہوں نے کہا کہ میں سینیٹر سراج الحق کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے اندر ہماری بات کی اور ہمارے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ ہوا کشمیر کے لیے بھی سراج الحق کی قربانیاں اور کوششیں لائق تحسین ہیں انہوں نے کہاکہ کشمیری قیادت آزادی کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر متحد اور متفق ہے اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر خالد محمود خان نے کہاکہ کشمیر سے بہنے والے دریائوں میں شہداء کا خون شامل ہے ،،مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے میڈیا کانفرنس کی جائے تا کہ یہاں کا میڈیا مظالم اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں کشمیری نہ گھبرائے ہیں اور نہ پریشان ہیں وہ آزادی کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کنونیئر کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل عبدالرشید ترابی نے کہاکہ کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل اپنے پلیٹ فارم سے مسئلہ کو اجاگر کرنے کے لیے سرگرمیاں جاری رکھے گی اور مشاور ت کے ساتھ جو سرگرمیاں طے ہوئی ہیں ان پر عمل کیا جائے گا ،کانفرنس سے پیپلز پارٹی کے نائب صدر مطلوب انقلابی،مسلم کانفرنس کے چیف آرگنائزر صغیر چغتائی،،جمعیت علماء اسلام جموں کشمیر کے امیر مولانا امتیاز صدیقی،،جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا امتیاز عباسی،،حریت کانفرنس کے کنونیئر غلام محمد صفی،فیض نقشبندی،رفیق ڈار،مولانا عبدالسمیع ،نورالباری سمیت دیگر قائدین نے خطاب کیا ،کانفرنس کے آغاز میں شہداء کشمیر،پیر عتیق الرحمان فیض پوری مرحوم اور غلام محمد صفی کی اہلیہ مرحومہ کے لیے دعا کی گئی۔

(جاری ہے)

جبکہ جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ کانفرنس مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر میں مسلسل بھارتی ریاستی دہشت گردانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتی ہے جس کے نتیجے میں صرف گزشتہ ایک ماہ میں درجنوں نوجوانوں کو شہید کر دیاگیا اور سرچ آپریشن کے نام پر مکانات اور اثاثے لوٹے اور نذر آتش کیے جا رہے ہیں ۔ قائدین حریت اور ہزاروں کارکنان مسلسل نظر بند یا جیلوں میں ہیں ۔

آئے روز میڈیا اور سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں ۔ انسانیت کش جرائم چھپانے کے لیے بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ریلیف اداروں کی رسائی ناممکن بنا دی گئی ہے۔کانفرنس کھٹوعہ جموں ریجن میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے ننھی آصفہ کی اجتماعی عصمت دری اور بہیمانہ قتل کی شدید مذمت اور اس امر پر تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ سرینگر کی کٹھ پتلی حکومت کے حلیف بی جے پی کے اہم عہدیداران اور وزراء مجرموں کے تحفظ کے لیے انتہائی ڈھٹائی سے یکجہتی ریلیاں نکال رہے ہیں اور جموں ریجن سے مسلمانوں کو نومبر1947ء کی طرح کے قتل عام کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔

کانفرنس شہیدہ آصفہ کے حوالے سے ہونے والے انسانیت سوز واقعہ کے خلاف مخالفت کے باوجود وکالت کرنے پر وکلاء بالخصوص دپیکا سنگھ رجاوت کو خراج تحسین پیش کرتی ہے اور ہندوستانی اہل دانش جنہوں نے زندہ ضمیری کا ثبوت دیا اور اس واقعے کی مذمت کی ، کی بھی تحسین کرتے ہوئے یہ توقع رکھتی ہے کہ جموں کشمیر میں ہونے والے دیگر بھارتی مظالم کی بھی مذمت کرکے حکومت پر دبائو بڑھائیں گے تا کہ کالے قوانین اور ظالمانہ کارروائیوں کا سلسلہ ختم ہو سکے۔

کانفرنس قائدین حریت / مزاحمتی قیادت کی مشترکہ حکمت عملی پر تحسین کرتے ہوئے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔کانفرنس اقوا م متحدہ ، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت کو ریاستی دہشت گردی کا عمل روکنے کے لیے مجبور کریں اور کالے قوانین کے خاتمے ، حریت کانفرنس اور محبوس نوجوانوں کی رہائی اور فوجی انخلاء کے عمل کو یقینی بنانے کا اہتمام کریں اور نریندر مودی کی انتہا پسندانہ پالیسیاں جو صورت حال کو مسلسل جنگ کی طرف دھکیل رہی ہیں کا نوٹس لیںاور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔

یہ کانفرنس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ایک بین الاقوامی جارحانہ سفارتی حکمت عملی کا اہتمام کرتے ہوئے عالمی اداروں اور اہم دارالحکومتوں کو متحرک کرے بالخصوص او آئی سی کا اعلیٰ سطحی خصوصی اجلاس منعقد کرنے کا اہتمام کرے ۔ بیس کیمپ کے کردار کو فعال اور متحرک کرنے کے لیے حکومت کو باوسائل اور با اختیار بنایا جائے قدرتی اور قومی وسائل میں ریاست کے آزاد دونوں خطوں ، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو بھرپور حصہ دیا جائے تا کہ یہ خطے تحریک آزادی کے لیے رول ماڈل بن سکیں۔

کانفرنس قومی جماعتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ انتخابی منشور اور مہم میں مسئلہ کشمیر کو سرفہرست رکھیں اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کریں ۔کانفرنس متوقع پاک بھارت مذاکرات میں جموں و کشمیر کو سرفہرست رکھنے اورکشمیریوں کو بطور بنیادی فریق تسلیم کرتے ہوئے پراسیس کا حصہ بنانے کا بھی مطالبہ کرتی ہے۔بین الاقوامی رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے اہم دارلحکومتوں میں وفود بھیجنے کا اہتمام کیا جائے ۔لندن ، برسلزاور نیو یارک میں بین الاقوامی کانفرنسوں کا اہتمام کیا جائے ۔