مقبوضہ کشمیرمیں ریاستی دہشت گردی، قابض افواج کے مظالم ، قتل و غارت گری ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، بدنام زمانہ کالے قوانین ، خواتین کی عصمت دری ، حریت رہنمائوں کی بلاجواز گرفتاریاںباعث تشویش ہیں ‘مسئلہ کشمیر کے باوقار حل کی خاطر سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس بلایا جائے

پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے صدر سابق وزیرخزانہ و منصوبہ بندی ترقیات چوہدری لطیف اکبرکی بات چیت

منگل مئی 19:05

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے صدر سابق وزیرخزانہ و منصوبہ بندی ترقیات چوہدری لطیف اکبرنے مقبوضہ کشمیرمیں بدترین ریاستی دہشت گردی، قابض افواج کے مظالم ، قتل و غارت گری ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، بدنام زمانہ کالے قوانین ، خواتین کی عصمت دری ، حریت رہنمائوں کی بلاجواز گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے باوقار حل کی خاطر سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا ، اوروفاقی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ سفارتی لابنگ کے ذریعے کشمیریوں کے قتل عام ، ورکنگ بائونڈری ، لائن آف کنٹرول پر بھارتی گولہ باری سے فوجی ، سول شہریوں کی شہادتوں ، عالمی قوانین کی خلاف ورزی ، جنیوا کنونشن کی سفارشات کو پائوں تلے روندنے سمیت توسیع پسندانہ عزائم اور نیوکلیئر وار کے لئے حالات پیدا کر نے پر دنیا بھر کے ایوانوں میں کشمیر کے تاریخی پس منظر پر گرفت رکھنے والے تمام مکاتب فکر پر مشتمل وفود ارسال کئے جائیں اور جنگی جرائم اور انصاف کی عالمی عدالتوں میں بھارتی جارحیت کے خلاف مقدمات درج کروانے کا وقت آچکا ہے مسئلہ کشمیر اب یا کبھی نہیں کہ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے دو ایٹمی ممالک کے درمیان پائیدار تعلقات اور عالمی امن قائم کرنے ڈیڑھ کروڑ کشمیری عوام کو حق خود رادیت دینے کے لئے اقوام متحدہ سمیت بااثر غیر جانبدار ممالک کی ثالثی کا کردار ناگزیر ہو چکا ہے وہ گزشتہ روز اپنی رہائش گاہ پر مقبوضہ کشمیر کی تشویش ناک صورتحال اور 14 بے گناہ نہتے ، آزادی پسندوں کے قتل اور لاتعداد کو زخمی، حریت رہنمائوں کی گرفتاریوں پر اخباری نمائندوں سے خصوصی گفتگوکررہے تھے اس موقع پر مرکزی سیکرٹری ریکارڈ شوکت جاوید میر یوتھ کے مرکزی وائس چیئرمین کلیم قریشی ، خیبر پختونخواہ کے رہنماء اختیار اللہ بٹ ، اشتیاق چوہدری اور سابق سیکرٹری اطلاعات سی پی سی سید اعجاز کاظمی بھی موجود تھے ، چوہدری لطیف اکبر نے کہا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مجرمانہ ذہنیت کا تسلیم شدہ عالمی دہشت گردہے جو سر تا پاء مسلمانوں سمیت اقلیتوں کے خون ناحق میں لت پت ہے کشمیریوں نے ہمیشہ پاک بھارت مذاکرات خوش آئند قرار دیتے ہوئے قربانیوں کا تسلسل جاری رکھا ، لیکن کمپوزٹ ڈائیلاگ ، اقدامات برائے بحالی اعتماد ، دو طرفہ تجارت ، وفود کے تبادلے بھی کشمیریوں پر ہونے والے انسانی سوز بدترین مظالم ذرابھی نہ تھم سکے آج بھی مقبوضہ کشمیر میں نہتے آزادی پسندوں پر پیلٹ گن کا استعمال ہو رہا ہے جوخطرناک جانوروں کے لئے ہوتی ہے کرفیو کا نفاذ میڈیا اور انٹر نیٹ پر پابندیوں کے باوجود بھارت کھوکھلے دعوئے کرتے شرمسار نہیں ہوتا کہ وہ دنیا کی کون سی بڑی جمہوریت اور سکیولر ازم کا داعی ہے ۔

(جاری ہے)

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عام انتخابات سر پر موجود ہیں لہذا وزیراعظم راجا فاروق حیدر خان ماضی میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت کی طرح تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو اعتماد میں لے کر پاکستانی کی تمام سیاسی جماعتوںکے قائدین سے ملاقاتوںکیلئے متفق کریں تاکہ پاکستانی سیاست دان عام انتخابات میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو اپنے منشورکی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے عوام میں بھارتی مظالم اور 8 لاکھ قابض افواج کی دہشت گردی اور دنیا بھر میں خوردرو پودوں کی طرح اگنے والی تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کر کے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے اس قول ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ‘‘ اور معمار پاکستان شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نعرہ حریت کہ کشمیر کی آزادی کے لئے ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے کو نئی نسل میں روشناس کروائیں ، انہوں نے کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی ، پاکستان دشمنی دنیا بھر پر عیاں ہو چکی ہے کہ اس نے علی گڑھ یونیورسٹی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر اتار کر ہندوں ، ہندی ، ہندوستان کی چھاپ اپنے دامن پر پیوست کر دی ہے ۔

چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ، شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو نے دنیا بھرکے ایوانوں میں مسئلہ کشمیرکو اجاگر کرتے ہوئے آزادی پسند کشمیری قوم کی بیباک وکالت کی ، دفتر خارجہ میں دونوں اطراف کی کشمیری قیادت کو اعتماد سازی کے عمل میں شامل کرتے ہوئے بریفنگ دینے کا اہتمام کیا ، مکہ ڈیکلریشن اور کانسہ ، بلانکا کانفرنس ، اوآئی سی میں کشمیریوں کو مبصر کا درجہ دلوانا ، اور قومی اسمبلی میں بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی قیادت میں قومی کشمیر کمیٹی کا قیام تاریخ کے درخشندہ باب ہیں ۔

پیپلزپارٹی کے جواں سال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عملی سیاست کا آغاز کرتے ہوئے اپنے شہید نانا اور شہید عظیم والد ہ کی طرح کشمیر کو ترجیحات کا نمبر ون ایجنڈا بنا کر’’ لے کے رہیں گے سارا کشمیر ،،کا نعرہ بلند کرتے ہوئے بھارتی ایوانوں میں بھونچال برپاء کر دی جس کی وجہ سے بھارتی قیادت اور بنیاد پرست میڈیا کی چیخیں نکلتی پوری دنیا نے سنی۔

ایک اور سوال کے جواب میں پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے سربراہ چوہدری لطیف اکبرتجویز پیش کی کہ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اسمبلی اورحکومت کی مدت ختم ہونے سے قبل دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے پاکستان میں غیر ملکی سفراء اور قومی عالمی ذرائع ابلاغ ، انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں ، پاکستانی ، کشمیری سیاست دانوں کو بھارتی مظالم اور اس کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی پاکستان اور کشمیر میں مداخلت سے خون ریزی ، بلوچستان سے پکڑے جانے والے جاسوس کلبھوشن یادو کا نیٹ ورک دنیا کے لئے ناقابل تردید شواہد ہیں ، پیپلزپارٹی کا جنم ہی مسئلہ کشمیر کے بطن سے ہوا ہے لہذا ہمارا ہمارا مقبوضہ کشمیر کے بہن ، بھائیوں سے روح اور جسم کی مانند رشتہ ہے بہت جلد بھارتی مظالم کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ریاست جموں وکشمیر ، پاکستان کے چاروں صوبوں اور دنیا بھر میں احتجاجی ریلیوں کی کال دی جائے گی ۔