ایم سی ڈی پی کا سیوریج منصوبہ مکمل ناکام‘طارق آبادمیں بائی پاس روڈ سیوریج لائن بند‘ گندہ پانی گھروں میں داخل ہونے لگا

میونسپل کارپوریشن کی عدم توجہی کے باعث علاقہ میں وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ‘عمائدین علاقہ کا شدیداحتجاج سیوریج کا گندا پانی متعدد مقامات پرسڑکوں پر بہہ رہاہے ‘چیف سیکرٹری ایم سی ڈی پی کی کرپشن اور میونسپل کارپوریشن کی ناقص کارکردگی کا نوٹس‘ سیوریج لائین بحالی کیلئے فوری اقدامات کریں‘عمائدین علاقہ

منگل مئی 19:11

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) ایم سی ڈی پی کا سیوریج منصوبہ مکمل ناکام ‘کروڑوں روپے کے فنڈزگندی نالیوںمیں بہہ گئے‘ طارق آبادمیں بائی پاس روڈ سے گزرنے والی شہرکی مرکزی سیوریج لائن ایک ہفتے سے بند‘ سیوریج کا گندہ پانی گھروں میں داخل ہونے لگا‘میونسپل کارپوریشن کی عدم توجہی کے باعث علاقہ میں وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ‘عمائدین علاقہ کا شدیداحتجاج، چیف سیکرٹری سمیت اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کامطالبہ ‘تفصیلات کے مطابق مظفرآباد سٹی ڈویپلمنٹ پراجیکٹ کے تحت شہرمیں کروڑوں روپے کی لاگت سے بچھائی گئی سیوریج لائن نے ایم سی ڈی پی کی شفافیت اور میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے سے زائد طارق آباد بائی پاس روڈ پر بچھائی گئی سیوریج لائین چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس غلام مصطفی مغل کی رہائش گاہ کے قریب محلہ قاضیاں کے وسط سے گزرنے والی طارق آبادبائی پاس روڈ سمیت ترکی چوک اور دیگرمتعدد مقامات پر سیوریج لائین بند ہوچکی ہے جس کا گندہ پانی نہ صرف بائی پاس روڈ پر بہہ رہاہے بلکہ اب سیوریج کا پانی واپس انہی گھروں میں داخل ہونے لگاہے جہاں سے سیوریج ڈالی گئی تھی۔

(جاری ہے)

پورے علاقے میں ہر طرف بدبووتعف پھیل رہاہے جس سے علاقہ میں وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے ۔دوسری جانب شہرمیں صفائی کی صورتحال انتہائی ناقص ہے اور شہر کے بیشتر علاقوں میں ناصرف سڑکوں پر بلکہ گلیوں اور محلوں میں بھی کوراکرکٹ کے انبار لگے ہوئے ہیں، میونسپل کارپوریشن میں شہری درخواستیں دے کر تنگ آچکے ہیں لیکن ان کی کوئی دادرسی نہیں کی جارہی ہے۔ ، شہر کی مصروف ترین شاہراہوں پر ہمہ وقت آوارہ جانوروں بھی گھومتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ شہریوں نے چیف سیکرٹری سمیت اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ایم سی ڈی پی کے تحت نامکمل چھوڑے گئے سیوریج منصوبے کو مکمل کرویایا جائے اور بند ہونے والی سیوریج لائینوں کو کھلوانے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں ۔

متعلقہ عنوان :