پاکستان کپ ،قومی بلے بازرننگ بھول گئے، ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر20بلے باز صرف رن آئوٹ ہوئے

منگل مئی 19:34

پاکستان کپ ،قومی بلے بازرننگ بھول گئے، ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر20بلے ..
فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) پاکستان کپ ون ڈے کرکٹ ٹورنامنٹ میں رن آوٹس کی بھرمار رہی جب کہ مجموعی طور پر 20بیٹسمین وکٹوں کی درمیان دوڑتے ہوئے بروقت کریز تک پہنچنے میں ناکام رہے۔فیڈرل ایریاز کی ٹائٹل فتح پر ختم ہونے والے پاکستان کپ میں معمول سے زیادہ رن آٹ دیکھنے میں آئے، فیصل آباد میں ہونے والے ایونٹ کی پہلی وکٹ ہی اس انداز میں گری، بلوچستان کے اوپنر نوید ملک 9 اور احمد شہزاد95رنز بناکر فیلڈرز کی مستعدی کے سامنے بے بس ہوگئے،جوابی اننگز میں پنجاب کے زین عباس (47) نے بھی اسی انداز میں وکٹ گنوائی۔

دوسرے میچ میں خیبرپختونخوا کے اوپنر خرم منظور60پر رخصت ہو گئے،اسی اننگز میں آخری 2 بیٹسمین ثمین گل(6) اور صدف حسین(1) بھی رن آٹ ہوئے،تیسرے میچ میں افتخار احمد سنچری مکمل کرتے ہی ساتھی بیٹسمین کے ساتھ غلط فہمی کا شکار ہوکر پویلین لوٹ گئے۔

(جاری ہے)

جوابی اننگز میں بلوچستان کے اوپنر بسم اللہ خان نے اسی انداز میں وکٹ گنوائی،،پنجاب اور خیبرپختونخوا کا واحد میچ تھا جس میں کوئی رن آٹ نہیں ہوا،پانچویں مقابلے میں فیڈرل ایریاز کے اوپنر اویس ضیا(9)کو اس غلطی کا خمیازہ بھگتنا پڑا،جوابی اننگز میں سندھ کے عدنان اکمل(2)نے وکٹ کی قربانی پیش کردی،چھٹے میچ میں بلوچستان کے احمد شہزاد 72پر رن آوٹ ہوئے۔

ساتویں میچ میں محمد رضوان نے اسی انداز میں 140اورجوابی اننگز میں عابد علی نے 30پر وکٹ گنوائی،آٹھویں مقابلے میں سندھ کے خرم شہزاد(0) اور بلال آصف(11)اسی غفلت کا شکار ہوئے،نویں میچ میں فیڈرل ایریاز کے وقاص مقصود (1)کے بعد بلوچستان کے رضوان حسین رن آوٹ ہوئے۔دسویں مقابلے میں پنجاب کے محمد سمیع(2)،،سندھ کے عدنان اکمل(19)اپنی ٹیم کیلیے پریشانی کا باعث بنے۔

فائنل میں پہلی وکٹ ہی رن آوٹ سے گری، خرم منظور32رنز تک محدود رہے،جوابی اننگز میں فیڈرل ایریاز نے ایسی کوئی غلطی نہیں کی،مجموعی طور 20بیٹسمین رن آوٹ ہوئے،فیصل آباد کے سخت گرم موسم کو اس کی ایک وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ایک کوچ کے مطابق پاکستان کپ کیلیے ٹیموں کا انتخاب کرنے کے بعد مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو ایونٹ سے قبل زیادہ پریکٹس کا موقع نہیں ملا،اس لیے رن آوٹ معمول سے زیادہ دیکھنے میں آئے۔