قومی اسمبلی اجلاس :سی ڈی اے آرڈیننس اکثریت سے منظور کرلیا گیا

منگل مئی 20:48

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سی ڈی اے کے حوالے سے آڈیننس پر ڈپٹی سپیکر اور ڈاکٹر شیریں مزاری کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

(جاری ہے)

منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ڈاکٹر شیریں مزاری کے بار بار اعتراض سے تنگ ہوکر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ ہائے اللہ کیا بیماری ہے اور کہا کہ جو رول کو نہیں مانتے ان سے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ،،ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ سی ڈی اے کے حوالے سے پیش کیے گئے آڈیننس کے حوالے سے ہمیں پہلے آگاہ نہیں کیا گیا یہ غیر قانونی ہے ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں آپ اس حوالے سے سے گنتی کروائیں ۔

رول کے مطابق تین دن پہلے نوٹس دیا جاتا ہے لیکن ہمیں اس کا ابھی پتہ چل رہا ہے پیپلزپارٹی کے اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ یہ ملک آرڈیننس کے ذریعے سے ہی چلایا جارہا ہے یہ غیرقانونیہیہم اس کی مخالفت کرتے ہیں اس کے بعد ڈپٹی سپیکر نے سی ڈی اے کے حوالے سے آرڈینس پر ایوان میں گنتی کروائی تو حق میں زیادہ ووٹ آئے تو اس کے بعد اس آرڈیننس کو منظور کرلیا گیا یہ آرڈینس وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے پیش کیا تھا