کھرب مالیت کے ٹیکس چوری کے مقدمات پر حکم امتناعی ختم کرانے کیلئے پی اے سی کا چیف جسٹس کو خط

ماتحت عدلیہ کے ججوں نے ملک بھر کے 50کھرب کی ٹیکس ریکوری پر حکم امتناعی دے رکھے ہیں، چیف جسٹس حکم امتناعی مقدمات کی جلد فیصلوں کیلئے ماتحت عدلیہ کو حکم دیں، پی اے سی کا مطالبہ

منگل مئی 21:33

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ٹیکس ریکوری کی50کھرب مالیت کے مقدمات میں حکم امتناعی ختم جلد کرانے کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط تحریر کردیاہے، خط میں استدعا کئی گئی ہے کہ ماتحت عدلیہ کی طرف سے 50کھرب روپے کی ریکوری روکنے بارے عدالتی احکامات واپس لئے جائیں اور ٹیکس کے متعلقہ مقدمات کے فیصلے ترجیحی بنیادوں پر کئے جائیں تاکہ قومی خزانہ کو نقصانات پہچانے والوں کیخلاف بھی گھیرا تنگ کیا جا سکے، چیئرمین ایف بی آر طارق پاشا نے گزشتہ ہفتے پی اے سی اجلاس میں تفصیلات دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ملک کی بڑی بڑی کمپنیاں اور طاقتور لوگوں نے 50کھرب روپے کے ٹیکس ریکوری کیخلاف عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کر رکھے ہیں اور یہ حکم امتناعی گزشتہ کئی سالوں سے چلے آرہے ہیں، ایف بی آر چیف نے کہا کہ حکم امتناعی ایک بیماری ہے جس سے قومی خزانہ کو کمزور کر کے رکھ دیا ہے، پی اے سی چیئرمین سید خورشید شاہ نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ پارلیمنٹ کی نمائندہ پی اے سی خط کے ذریعے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی توجہ اس اہم معاملہ کی طرف مبذول کرائیں گے تاکہ قوم کا50کھرب روپے پھنساہوئے دولت کرپٹ اور ٹیکس چوروں سے واپس لیا جائے، پی اے سی انتظامیہ کو خط تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 50کھرب ٹیکس چوری کے مقدمات کے حوالے سے دیئے گئے حکم امتناعی کی جلد سماعت کیلئے ماتحت عدلیہ اور ججوں کو ہدایات دی جائیں تاکہ50کھرب روپے قومی خزانہ میں جمع ہو سکیں، پی اے سی چیئرمین نے کہا تھا کہ ٹیکس چوروں سی50کھرب وصول ہونے کے بعد ہمیں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے قرضے لینے کی ضرورت بھی نہیں آئی گی۔

۔