شریف خاندان ریفرنسز: احتساب عدالت سپریم کورٹ کی دی گئی اضافی مدت میں بھی ٹرائل مکمل کرنے میں ناکام، مزید وقت مانگ لیا

نیب نے سپریم کورٹ سے مزید وقت مانگ لیا ،جج محمد بشیر نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کردی

منگل مئی 21:33

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) احتساب عدالت شریف خاندان کے خلاف کرپشن ریفرنسز میں سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی توسیع شدہ مدت میں بھی ٹرائل مکمل کرنے میں ایک بار پھر ناکام ہوگئی ، سپریم کورٹ سے مزید وقت مانگ لیا۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔اس امر کا اظہار عدالت کے جج محمد بشیر نے لندن فلیٹس ریفرنسز کی سماعت کے دوران نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث سے مکالمے کے دوران کیا ۔

جج محمد بشیرکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ مزید وقت دے تو پھر 342 کے بیان کا معاملہ دیکھا جائے گا اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ کو مزید تین ماہ کا وقت دینا چاہیے ۔ جج محمد بشیر نے کہا کہ یہ تو فاضل عدالت کی مرضی ہے کہ وہ کتنا وقت دیتی ہے ۔

(جاری ہے)

مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ شفاف ٹرائل کا تقاضا ہے ہمیں بھی اتنا وقت دیا جائے جتنا نیب کو ملا ہے ۔

پراسیکیوشن نے اٹھارہ گواہوں پر آٹھ ماہ لگا دیئے اس پر نیب پراسکیوشن نے کہاکہ شریف خاندان کے وکلاء نے گواہوں پر جرح کرتے ہوئے غیر ضروری سوالات کیے ہیں جس کی وجہ سے مقدمہ میںطوالت ہوئی۔۔سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی ملت میں ٹرائل ہی ریفرنس پر مکمل کرتے ، نیب کی استدعا ہے کہ عدالت اس کا فیصلہ سنا دے جس پر جج محمد بشیر نے کہاکہ تینوں ریفرنسز کا فیصلہ ایک ساتھ سنایا جائے گا۔ بشارت راجہ)