ثقافتی انقلاب میں سعودی حکومت 50.9 ارب ریال کی سرمایہ کاری کریگی

سرمایہ کاری کا مقصد حقیقی معنوں میں ثقافتی صنعت کی تعمیر ہے جہاں تھیٹرز، سینما اور تربیتی سینٹرز ہوں گے، احمد المازد

منگل مئی 21:43

ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) سعودی عرب نے جدت پسندی کے منصوبے کے حصے کے طور پر ملک کو ثقافت اور انٹرٹینمنٹ کا ہب بنانے کے لیے تیزی سے قدم بڑھانے کا آغاز کردیا ہے۔امریکی فلم اسٹار کیٹی ہولمز اور برطانوی اداکار اور ڈائریکٹر ادریس ایلبا نے سعودی حکام سے ملاقات کی، جس میں سعودی عرب میں 2020 تک ثقافت اور تفریح کے شعبے میں 130 ارب ریال (34.7 ارب ڈالر))) کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

سعودی عرب کی ثقافتی پالیسی کی قیادت کرنے والے احمد المازد نے کہا ہے کہ ’اس سرمایہ کاری کا مقصد حقیقی معنوں میں ثقافتی صنعت کی تعمیر ہے جہاں تھیٹرز، سینما اور تربیتی سینٹرز ہوں گے‘۔اہم منصوبوں میں سولہ انٹرٹینمنٹ کمپلیکس، آبی مخلوقوں کا سینٹر اور تین دیگر بڑے تفریحی ہب کی تعمیر شامل ہے۔

(جاری ہے)

یہ تمام منصوبے سعودیہ کے تین شہروں کو ’زندگی کے معیار‘ کے حوالے سے دنیا کے 100 بہترین شہروں میں شامل کرنے کے عزم کو یقینی بنانا ہے۔

کوالٹی آف لائف پروگرام 2020 کے نام سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ امیر سعودی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ہے کہ وہ اپنا فرصت کے وقت کا بڑا حصہ سلطنت میں گزاریں، جہاں کی نصف سے زائد آبادی 25 سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر محیط ہے۔۔۔سعودی عرب کی انٹرٹینمنٹ پالیسی کے سربراہ احمد خطیب کا کہنا تھا کہ ’یہ منصوبہ سعودی شہریوں کو اطمینان دلانے کے لیے کردار ادا کرے گا اور انہیں یہ تحریک دے گا کہ وہ اپنے ملک میں ہی سرمایہ کاری کریں اور یہیں قیام کریں۔

اس ثقافتی انقلاب میں سعودی حکومت 50.9 ارب ریال خرچ کرے گی، جبکہ دیگر سرمایہ کاری نجی سرمایہ کاروں اور غیر ملکی پارٹنرز سے حاصل کی جائے گی۔برطانوی اداکار ایلبا نے کہا کہ ’سعودی عرب نے مجھے یہاں اپنی فلم بنانے کا موقع دیا ہے اور میں دوبارہ یہاں ضرور آؤں گا۔۔