این ایچ اے کے ماڈل پروجیکٹ ’’ شاپنگ مال‘‘ گوجرخان انڈر پاس پر تجاوزات کی بھرمار کی خبروں کا سخت نوٹس

ڈپٹی ڈائریکٹر ارشد عباس دیگر آفیسرز کے ساتھ اچانک انڈر پاس پہنچ گئے،لیزر ،عملہ ، دکانداروں اور تجاوز کرنیوالوں کی دوڑیں لگ گئیں تجاوزات کو فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایات جاری

منگل مئی 21:43

گوجرخان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) این ایچ اے ا ے ماڈل پروجیکٹ ’’ شاپنگ مال‘‘ گوجرخان انڈر پاس پر تجاوزات کی بھرمار بارے پریس کلب گوجرخان کی خبروں کا سخت نوٹس ،این ایچ اے کے ڈائریکٹر حسن شفاقت کی حسب ہدایت ڈپٹی ڈائریکٹر ارشد عباس دیگر آفیسرز کے ساتھ اچانک انڈر پاس پہنچ گئے،لیزر ،عملہ ، دکانداروں اور تجاوز کرنیوالوں کی عملاً دوڑیں، ڈپٹی ڈائریکٹر نے تجاوزات میں مسلسل اضافہ بالخصوص انڈر پاس کے داخلی وخارجی راستوں پر بنی دکانات اور ماسٹر پلان سے ہٹ کربنے کھوکھاجات فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیاکہ منظور شدہ نقشہ و ماسٹر پلان کے بغیر موجود دکانیں اور کھوکھاجات ہٹا تے ہوئے ہوئے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دی جائیگی ، لیزر راجہ بشارت نے تجاوزات اور کھوکھوںکے قیام بارے صحافیوں پر بلیک میلنگ کاالزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کسی کو بھی تجاوزات کی اجاز ت نہیں دے رکھی ،این ایچ اے حکام نے انڈر پاس کے چاروں راستوں پرتجاوزات بالخصوص دکانوں کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے لیز رکوتمام تجاوزات ،کھوکھاجات اورسیڑھیوں سمیت جابجا قائم غیر قانونی بجلی کنکشنزکے فور ی خاتمہ کی ہدایت بھی کی ،آ ن لائن کو بتایا گیا ہے کہ قومی شاہراہ پرمشرف دورمیں30سالہ لیز پرقائم این ایچ اے کے اس انڈر پاس کیلئے نجی کمپنی بشارت اینڈ کمپنی کو منظور شدہ نقشہ اور ماسٹر پلان کے مطابق صرف60دکانوں کی اجازت حاصل تھی اور معاہدہ کے تحت ہر سال معمولی اضافہ کے ساتھ لیز کی بڑھنے والی رقم لگ بھگ 15برس بعد اب سالانہ 5لاکھ 47ہزار روپے جمع ہو رہی ہے جبکہ مال بنائو اسکیم کے تحت موقع پر نقشے سے ہٹ کرلگ بھگ 70کھوکھے اور اضافی غیر قانونی کارنر شاپس قائم ہیں جن سے ماہانہ لاکھوں روپے کرایہ کی مد میں وصولی کے علاوہ انڈر پاس کی ر اہداریوں ،سیڑھیوںاورلفٹ والی جگہ سے بھی یومیہ ہزاروں روپے کی چاندی عملاً سمیٹی جاتی ہے،یہاں اس امر کا بھی اظہار ہر گز بے جا نہ ہوگاکہ ان تجاوزات کے بارے میں گوجرخان پریس کلب کے متعلقہ اخبارات کی نشاندہی پراین ایچ اے حکام نے سخت نوٹس لیتے ہوئے چار ہفتے قبل باضابطہ لیٹر بھی جاری کیا تھا

متعلقہ عنوان :