داعش سربراہ عراق کی سرحد کے قریب شامی علاقے میں روپوش ہے،

عراقی انٹیلی جنس روسی ، شامی اور ایرانی یونٹوں کے ساتھ کثیر القومی افواج کے مشترکہ حملے کی تیاری کی جا رہی ہے،بیان

منگل مئی 22:20

بغداد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) عراقی سکیورٹی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ داعش تنظیم کا سرغنہ ابوبکر البغدادی عراقی سرحد کے نزدیک شامی علاقوں میں روپوش ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق عراقی وزارت داخلہ کے زیر انتظام انٹیلی جنس اور انسداد منشیات کے ڈائریکٹر جنرل ابو علی البصری نے کہاکہ تازہ ترین معلومات کے مطابق البغدادی شام کے قصبے حجین میں موجود ہے۔

یہ قصبہ دیر الزور صوبے میں (شامی عراقی) سرحد سے 18 میل کی دٴْوری پر واقع ہے۔ البصری کے مطابق اس سلسلے میں روسی ، شامی اور ایرانی یونٹوں کے ساتھ کثیر القومی افواج کے مشترکہ حملے کی تیاری کی جا رہی ہے۔دوسری جانب عراقی وزارت دفاع کے ترجمان بریگڈیئر جنرل یحی رسول نے باور کرایا کہ البغدادی (جس کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات فراہم کرنے پر 2.5 کروڑ ڈالر کی رقم رکھی گئی ہی) دریائے فرات کے مشرق میں سرحدی علاقے میں رہنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس وقت شام کے صوبے الحسکہ کے قصبے الشدادی میں بھی ہو سکتا ہے۔

(جاری ہے)

ادھرسیرین ڈیموکریٹک فورسز کے ترجمان مصطفی بالی کا کہنا تھا کہ داعش تنظیم کا سرغنہ اس وقت شامی عراقی سرحد پر واقع درجنوں قصبوں میں سے کسی قصبے میں موجود ہو سکتا ہے۔جبکہ شدت پسند اور دہشت گرد تنظیموں کے امور کے ماہر ہشام الہاشمی کے مطابق البغدادی کی نقل و حرکت آخری مرتبہ 2017ء کے موسم گرما میں قریب سے کڑی نگرانی کی زد میں آئی تھی جب وہ نینوی صوبے میں موصل کے نزدیک ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو رہا تھا۔

الہاشمی کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی افراد سے ملاقات کی جنہوں نے البغدادی اور اس کے بعض ساتھیوں کو پہچان لیا تھا۔ ان لوگوں کے مطابق وہ بنا کسی قافلے اور ذاتی محافظ کے صرف 3 افراد کے ہمراہ منتقل ہوتا ہے۔ یہ تین افراد اس کا بیٹا، داماد اور ایک دوست ہے جو اس کے لیے ڈرائیور کی ذمے داری انجام دیتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ برس جون میں روسی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ وہ 28 مئی 2017ء کو شام کے شہر رقّہ کے نزدیک آپریشن میں البغدادی کے ہلاک ہونے کی رپورٹوں پر غور کر رہا ہے۔ تاہم بعد ازاں معلوم ہوا کہ داعش کا سرغنہ مارا نہیں گیا بلکہ آپریشن کے دوران زخمی ہوا۔