دنیا میں پولیو کا خاتمہ کرنے میں دونوں ویکسینزکا اہم کردار ہے ‘ڈی جی ہیلتھ پنجاب

ٹیکہ کے ذریعے دی جانے والی ویکسین کا استعمال روٹین امیو نائیزیشن میں متعارف کروایا گیا ہے ڈاکٹر منیر احمد

منگل مئی 22:30

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر منیر احمد نے کہا ہے کہ تمام دنیا میں پولیو کے مکمل خاتمے میں قطروں کے ذریعے دی جانے والی ویکسین کا اہم کردار ہے، اور اگرچہ ٹیکہ کے ذریعے دی جانے والی ویکسین کا استعمال روٹین امیو نائیزیشن میں متعارف کروایا گیا ہے تاہم بیماری کے مکمل خاتمے کرنے والے تمام ایشیائی اور مغربی ممالک نے دونوں ویکیسز کا استعمال کیا ہے، یہ بات حقیقت پر مبنی نہیں کہ دنیا میں کسی بھی جگہ پولیو کے قطروں پر پابندی ہے۔

یہ بات انہوں نے پنجاب میں پولیو سے متعلق جائزہ میٹنگ میں کی جس میں جس میں ای پی آئی کے تکنیکی ماہرین اور ضلعی افسران نے شرکت کی ۔انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کے دنیا میں پولیو کے خاتمے کے پلان کے مطا بق ایک طے شدہ طریقہ کار کے تحت مرحلہ وار ٹیکہ کے ذریعے دی جانے والی ویکسین (آئی پی وی) کو متعارف کروایا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

ان ممالک میں جہاں پولیو وائرس کو ختم کیا جا چکا ہے وہاں روٹین امیو نائیزیشن میں ٹیکہ کے ذریعے دی جانے والی ویکسین کا استعمال کافی سمجھا جاتا ہے۔

تاہم وہ ممالک جہاں وائرس موجود ہے وہاں وائرس کے خطرے کو دیکھتے ہوئے قطروں اور ٹیکوں دونوں کے موثر استعمال سے وائرس کے پھیلائو کو روکا جا رہا ہے۔ پنجاب میں روٹین امیو نائیزیشن میں ٹیکہ کے ذریعے دی جانے والی ویکسین (آئی پی وی ) کو سال 2015 میں متعارف کروایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیو مہمات میں پانچ سال تک کے بچوں کو قطرے بھی پلائے جاتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں پنجاب پولیو کے خاتمہ کے قریب ہے۔

گزشتہ تین سال میں پنجاب میں صرف دو کیس رپورٹ ہو ئے جبکہ سال016 میں کوئی بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ ڈاکٹر منیر احمد نے بتایا پاکستان میں وہی ویکسین استعمال کی جاتی ہے جو دیگر ممالک میں کی جاتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور یونیسف کے معیار کے مطابق یہ ویکسین تیار کی جاتی ہے اور عالمی ادارہ صحت کی پاس کردہ فرمز سے پاکستان میں ویکسین لائی جاتی ہے۔۔پاکستان میں آنے والے تمام ویکسین کا مکمل ریکارڈ موجود ہوتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ بچوں میں دیگر بیماریوں جیسا کہ اسہال کو پولیو کو جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ افسوس ناک ہے۔ ایسے ذمہ غیر دارانہ بیانات پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو نقصان ہو سکتا ہے۔