پنجاب فوڈ اتھارٹی کی تعلیمی اداروں کو واٹر فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب کے حوالے سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم

کل سے لاہور سمیت صوبہ بھر کی70 ہزار پرائیویٹ اور 60 ہزار سرکاری سکولوںکی انسپکشن کی ہدایات جاری طلبہ کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے واٹر فلٹریشن پلانٹ نہ لگانے والے سکولز کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی‘نورالامین مینگل تعلیمی اداروں کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے تین ماہ کی ڈیڈ لائن کے ساتھ واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانے کی ہدایات کر رکھی تھیں‘ڈی جی فوڈاتھارٹی

منگل مئی 22:30

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) پنجاب فوڈ اتھارٹی کی تعلیمی اداروں کو واٹر فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب کے حوالے سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہوگئی۔کل بروز ( بدھ ) سے لاہور سمیت صوبہ بھر کے سرکاری اور نجی سکولوں کی انسپکشن شروع ہوگی۔تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر میں فوڈ اتھارٹی نے تعلیمی اداروں کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانے کی ہدایات کر رکھی تھیںجس کی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی۔

یاد رہے واٹر فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب کیلئے تعلیمی اداروں کو تین ماہ کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے انسپکشن ٹیموں کوآج سے لاہور سمیت صوبہ بھر کے سرکاری اور نجی سکولوں کی انسپکشن شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔ انسپکشن ٹیمیں صوبہ بھر میں 70 ہزار پرائیویٹ اور 60 ہزار سرکاری سکولوں کی چیکنگ کریں گی جن میں لاہور کے 12500 پرائیویٹ اور 1248 سرکاری سکول بھی شامل ہیں۔

(جاری ہے)

ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے واضح کیا کہ طلباء کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی سکولز کی اولین ذمہ داری ہے جبکہ فلٹریشن پلانٹ نہ ہونے پر طلبہ نل کا پانی پینے پر مجبور ہوتے ہیں جو کہ متعدد موذی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام سکولز فیسوں کی مد میں طلباء سے صاف پانی فراہم کرنے کے چارجز بھی وصول کرتے ہیں۔دو روزہ انسپکشن کے بعد واٹر فلٹریشن پلانٹ نہ لگانے والے سکولزکے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لاتے ہوئے بھاری جرمانے کیئے جائیں گے۔

متعلقہ عنوان :